ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 409
گریفائٹس 409 ہو۔اس لئے اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہئے تا کہ وہ کسی اور جگہ اپنا علاج کرا سکے۔گریفائٹس اپنے مخصوص ایگزیما میں بہت مفید ہے۔اگر مریض میں اس کی دیگر مزاجی علامتیں بھی پائی جائیں تو یہ اکیلی ہی کافی ہے ورنہ ملے جلے ایگزیموں میں جہاں انفیکشن وغیرہ بھی ہو وہاں گریفائٹس محض مددگار دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔جلد میں کچا پن اور سرخی آ جائے جیسے سورائس کی ابتدائی علامتوں میں ہوتا ہے تو گریفائٹس دینی چاہئے۔جلد کی یہ علامت سلیشیا میں بھی پائی جاتی ہے مگ گریفائٹس کی پہچان یہ ہے کہ جلد سے چپچپی رطوبت نکلتی ہے۔گریفائٹس کینسر میں بھی مفید دوا ہے۔کینسر کارجحان ہر کار بن میں پایا جاتا ہے۔بعض زخم مندمل ہونے کے بعد دوبارہ تازہ ہوتے رہتے ہیں اور بالآخر کینسر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اگر ان کا آپریشن کیا جائے تو کچھ عرصہ آرام کے بعد کینسر دوبارہ پھوٹ پڑتا ہے۔اس صورت میں گریفائٹس کو نہیں بھولنا چاہئے۔200 یا 1000 کی طاقت میں دی جائے۔جب تک اثر ظاہر نہ ہو، اسے دہراتے رہیں۔گریفائٹس عضلاتی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ٹانگوں کے پچھلے حصے خصوص رانوں کے پیچھے اس کا اثر نمایاں ہوتا ہے جو مریض کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے تکلیف محسوس کرتے ہیں وہ دوستم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کو کمر کی تکلیف کی وجہ سے حرکت دشوار ہو جاتی ہے اور فالجی علامتیں ان کی حرکات میں مخل ہونے لگتی ہیں۔گریفائٹس کا ایسے مریضوں سے تعلق نہیں ہے۔دوسرے وہ مریض جن کے عضلات میں کھچاؤ اور تناؤ پیدا ہو جیسے وہ چھوٹے ہو گئے ہوں اور انہیں پوری طرح کھولنے اور دوبارہ سکیڑنے میں دقت محسوس ہو۔ران کے پیچھے بھی تناؤ ہو۔یہ گریفائٹس کا دائرہ کار ہے اور ایسے مریضوں میں خواہ دیگر علامات گریفائٹس کی نہ بھی ہوں، گریفائٹس کو آزمانا چاہئے۔بعض اوقات جز وی علاج کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔گریفائٹس میں سخت قبض پائی جاتی ہے اور فضلہ انتڑیوں کے نچلے حصہ میں بڑے بڑے سخت ٹکڑوں کی شکل میں تہ بہ تہ جمع ہوتا رہتا ہے۔اگر انتڑیوں میں عمومی سوزش