ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 408

408 گریفائٹس ہوتا ہے اور وہ خارش کر کے جسم کو لہولہان کر لیتے ہیں اور بہت تکلیف دہ صورت حال ہو جاتی ہے۔ان کے ایگزیما کی علامتیں گریفائٹس کے علاوہ سورائینم (Psorinum) سے بھی ملتی ہیں۔ان کے اندر اکثر کسی گہری بیماری کا فاسد مادہ موجود ہوتا ہے۔میں نے جب بھی ایسے بچوں کو جو علامات کے لحاظ سے سلیشیا طلب کرتے تھے ، سلیشیا دینی شروع کی تو بلا استثناء ان کے اندر سے پھوٹ کر مواد نکلا۔سلیشیا کا یہ اثر مسلم ہے۔سلیشیا سے فاسد مادے باہر نکل آئیں اورسلیشیا ہی کے اثر سے ٹھیک نہ ہوں تو لا ز ما کسی اور بالمثل مناسب دوا کی تلاش ضروری ہے۔سلیشیا کے بعد عموماً سورائینم کام آتی ہے یا پھر گریفائٹس۔سورائینم اکثر ایگزیما کو خشک کر دیتی ہے لیکن بعض دفعہ مرض کا کلیتا صفایا نہیں ہوتا اور خشک جلد پر خارش باقی رہ جاتی ہے تاہم ایک نسبتی تسکین ضروریل جاتی ہے اور بچہ رات کو کچھ عرصہ تک سکون سے سونے لگتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد ایگزیما کے اخراجات دوبارہ بہنے لگتے ہیں۔ایسی صورت میں گریفائٹس کو بھی ایک مددگار دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کچھ نہ کچھ اثر ضرور دکھاتی ہے۔لہذا ایگزیما جیسی ضدی بیماریوں میں بہتر یہی ہے کہ بعض ملتی جلتی دواؤں کو ایک دوسرے کے مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے۔اگر بچوں میں خارش سے بے چینی بہت بڑھ جائے تو آرسنک 1000 بھی بہت مفید ہے اور خشک ایگزیما کے لئے خاص طور پر مؤثر ہے۔آرسنک میں بے چینی کا عصر اتنا نمایاں ہے کہ اگر پوری علامتیں نہ بھی ہوں تو بھی یہ کچھ نہ کچھ کام کرتی ہے مگر اس صورت میں یہ عارضی فائدہ دیتی ہے۔آرسنک کا صحیح استعمال و ہیں ہو گا جہاں مریض کی اکثر علامات کی تصویر اس دوا سے مشابہ ہو۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ جو دوا دواؤں کے مزاج کو پہچان کر دی جائے وہی اصل علاج ہے اور یہ خیال کر لینا کہ جو مرض ایک دوا سے ٹھیک ہو اسی دوا سے ویسا ہر مرض ٹھیک ہو گا، محض خوش فہمی ہے۔یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر مرض کا مؤثر علاج دریافت ہو چکا ہو یا کسی ڈاکٹر کو ہر مرض کے لئے مناسب دوا کا علم ہو۔اس لئے جو مریض کسی ڈاکٹر سے ٹھیک نہ ہو اسے خواہ مخواہ اپنے ہاتھوں میں رکھ کر لمبی تکلیف نہیں دینی چاہئے اور یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور ڈاکٹر کے ہاتھ میں اس کا بہتر علاج