ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 404
گلونائن 404 پسینہ آتا ہے۔ورم الدماغ (Meningitis) ہو جاتا ہے۔اگر ملیریا کے جراثیم ریڑھ کی ہڈی میں چلے جائیں تو اس سے بھی ورم الدماغ ہو جاتا ہے۔اگر اس بیماری کا گرمیوں سے تعلق ہوتو اس میں گلو نائن مفید دوا ہے۔بسا اوقات راستہ چلتے ہوئے دوران خون سر کی طرف ہو جاتا ہے۔چہرہ تمتمانے لگتا ہے۔گلا گھٹنے کا احساس ہوتا ہے جیسے سارا خون منہ اور سر میں جمع ہو گیا ہو۔شدید کمزوری کے احساس کے ساتھ جسم ٹھنڈا اور پسینہ سے تر بتر ہو جاتا ہے اور غشی طاری ہو جاتی ہے جسے انگریزی طبی اصطلاح میں Apoplexy کہا جاتا ہے۔اس قسم کی غشی کے دورے دماغ میں خون کا لوتھڑا جمنے کی وجہ سے بھی ہو سکتے ہیں لیکن گلو نائن کے مریضوں میں تشیخ کے نتیجہ میں بھی یہ علامات عارضی طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔اگر ایسے مریض کا گلونائن سے بر وقت علاج نہ کیا جائے اور بار بار دورے پڑنے لگیں تو بسا اوقات مستقل نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔گلونائن کا مریض بعض اوقات دیکھے بھالے راستوں کو بھول جاتا ہے اور اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہے اور کدھر جانا ہے۔رستے اجنبی ہو جاتے ہیں۔یہ علامات لیکیسس (Lachesis) میں بھی پائی جاتی ہے۔گلونائن کوعموما خون کا دباؤ کم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔او ہیم بھی اس حالت میں مفید دوا ہے بلکہ گلونائن کے مقابل پر بلڈ پریشر ٹھیک کرنے کے لئے زیادہ مفید ہے اور نسبتا گہرا اثر کرتی ہے۔ڈاکٹر کینٹ کہتے ہیں کہ ایسی امراض کے علاج میں اور پیم کو گلو نائن پر ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ گلونائن کے اکثر اثرات عارضی ہوتے ہیں اور اوپیم بہت لمبا اثر دکھانے والی دوا ہے۔سردی لگنے کے نتیجہ میں یا خوف کی وجہ سے حیض بند ہو جائے اور دماغی علامات ظاہر ہو جائیں تو گلونائن مفید ہے۔سیمی سی فیوجا اور برائیو نیا بھی مفید دوائیں ہیں۔اگر پاگل پن کے اثرات نمایاں ہوں تو ایتھوزا بھی کام آ سکتی ہے۔عموماً معدہ کی تکلیفیں سر میں منتقل ہو جائیں تو ایتھوزا (Aethusa) دوا ہوتی ہے۔اسی طرح حیض رکنے کا اثر