ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 365
ڈلکا مارا پیدا ہو جاتی ہے۔365 ڈلکا مارا میں سر پر کھرنڈ بن جاتے ہیں جن سے رطوبت بہتی ہے۔یہ علامت میز بریم (Mezereum) میں بھی پائی جاتی ہے لیکن میزیریم میں ایگزیما کے اوپر جھلی سی بن جاتی ہے جس میں پیپ اور شدید بو پائی جاتی ہے۔ڈلکا مارا میں یہ علامات زیادہ شدید نہیں ہوتیں۔ڈلک مارا کے ایگزیما سے ملتی جلتی علامتیں رکھنے والی دوائیں سپیا، آرسینک، گریفائیٹس، پڑولیم، سلفر، کلکیریا کے نمکیات اور رسٹاکس ہیں۔ان سب کو اپنی اپنی علامتوں کے لحاظ سے یاد رکھنا چاہئے۔کروٹن، اینا کیلس اور اینا کارڈیم بھی بہت مفید دوائیں ہیں۔اینا گیلس ، کروٹن اور رسٹاکس کا ایگزیما بدن کے نچلے حصہ پر اور رانوں کے ارد گر دہوتا ہے۔اپنا کارڈیم میں ایگزیما سارے بدن پر پھیلتا ہے۔ڈلکا مارا میں سردرد کی علامت سردی اور مرطوب موسم میں بڑھ جاتی ہے۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔سر میں بھاری پن اور کنپٹیوں میں درد ہوتا ہے۔کانوں میں درد اور بھنبھناہٹ کی آوازیں آتی ہیں جن سے قوت سامعہ متاثر ہوتی ہے۔کانوں کے اردگرد کے غدودوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔گالوں میں شدید درد ہوتا ہے جو کان ، آنکھ اور جبڑوں تک پھیل جاتا ہے۔زبان خشک اور کھردری ہو جاتی ہے۔زبان کا فالج بھی نمایاں ہے۔چہرے کی اعصابی دردسردی لگنے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔مریض کھانے سے نفرت کرتا ہے۔ٹھنڈے پانی کی نہ بجھنے والی پیاس، جلن، متلی اور قے کا رجحان جس میں سفید لیس دار رطوبت نکلتی ہے۔قے کے دوران سردی لگتی ہے۔سردی کی وجہ سے مثانے میں سوزش اور بار بار پیشاب آتا ہے۔مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت رہتی ہے۔قطرہ قطرہ پیشاب آتا رہتا ہے۔بیماریوں کی علامت کروٹ پر لیٹنے سے کم ہوتی ہے اور کمر کے بل لیٹنے اور جھکنے سے بڑھتی ہیں۔حرکت سے کمی ہوتی ہے۔شام کے وقت اور رات کو بڑھ جاتی ہیں۔موسم کی تبدیلی سے ، مرطوب موسم میں بھیگ جانے اور ٹھنڈی چیزیں استعمال کرنے سے بھی