ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 364 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 364

ڈلکا مارا بڑھ جاتی ہیں۔364 گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں پر جانے یا وہاں سے واپس آنے پر نزلاتی تکلیفیں ہو جائیں تو ان میں بھی ڈلکا مارا دوا ہے۔بعض لوگوں کو سردی لگنے سے اسہال کی بجائے پیچش شروع ہو جاتی ہے۔اس پیچش کی دوا بھی ڈلکا مارا ہے۔ڈلکا مارا اونچی طاقت میں دی جائے تو وہ اس قسم کی کمزوریوں کا حفظ ما تقدم ہے اور اس دوا کی اونچی طاقت کے استعمال کے بعد ا کثر مریض موسم کی تبدیلیوں سے اس قدرمتاثر نہیں ہوتے۔اگر پسینہ آیا ہو اور ٹھنڈی جگہ میں آنے سے دب جائے تو اس سے پیدا ہونے والی تکلیفوں میں بھی ڈلکا مارا مفید ہے۔ڈ کامارا کا نزلہ ناک سے شروع ہوتا ہے لیکن آنکھوں میں اپنا مستقل قیام کر لیتا ہے، آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں اور زرد رنگ کی گاڑھی رطوبت نکلتی ہے۔یہ رطوبت پانی کی طرح پتلی بھی ہوتی ہے۔آنکھوں کے پپوٹے متورم ہو جاتے ہیں۔اگر ڈلکا مارا نہ دیا جائے تو نزلاتی تکلیفیں مزمن ہو جاتی ہیں۔ڈلک مارا میں خشک زکام ہوتا ہے اور ناک مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔گاڑھی زرد رطوبت ناک میں جم جاتی ہے۔ذراسی سردی بھی لگ جائے تو نزلہ عود کر آتا ہے اور ناک سے خون بھی نکلتا ہے۔ڈلکا مارا اندرونی جھلیوں اور بیرونی جلد میں ناسور پیدا ہونے کا بھی علاج ہے۔چہرے کی جلد پر ایگزیے کی قسم کے زخم بن جاتے ہیں جو تیزی سے پھیل جاتے ہیں اور زردرنگ کے کھرنڈ بنتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے چھالے کچھوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جو بہت جلد پھیلتے ہیں۔یہ علامت آرسنک میں بھی بہت نمایاں ہے لیکن دونوں کے مریض بالکل الگ مزاج رکھتے ہیں۔آرسنک میں گینگرین پیدا کرنے کا رجحان ہے جبکہ ڈلکامارا میں زخم گینگرین میں تبدیل نہیں ہوتے۔ڈلکا مارا وہاں زخم پیدا کرتی ہے جہاں جلد کی نہ ہڈی پر بہت پتلی ہو۔آرسنک اور ڈلکا مارا میں زخموں کی نوعیت کے لحاظ سے ایک فرق یہ ہے کہ آرسنک میں طاعون کی قسم کی گلٹیاں بنتی ہیں۔بغلوں کے غدود سوج جاتے ہیں اور ان میں پیپ بنتی ہے۔ڈلکا مارا میں غدودوں میں پیپ نہیں بنتی صرف سختی