ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 328
کونیم 328 بستر گھوم جاتا ہے جبکہ کا کولس میں چکر عموماً اٹھنے یا چلنے پر آتے ہیں۔کو نیم غم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اثرات سے بھی تعلق رکھتی ہے۔اس دوا میں غم کا پہلا اثر ذہن پر یادداشت کی کمزوری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔جہاں کہیں بھی کو نیم کی تکلیفیں پائی جائیں گی وہاں جلد کے سونے کا احساس بھی ضرور پایا جائے گا۔جلد زردی مائل ہو جاتی ہے۔چھالے دار ابھار پیدا ہونے لگتے ہیں اور اخراجات میں سخت بدبو ہوتی ہے۔سونے کے علاوہ محض آنکھیں بند کرنے پر ہی پسینہ آنے لگتا ہے۔آنکھ کے پیوٹے کا فالج بھی کو نیم کا خاصہ ہے۔آنکھوں میں سوزش ہو تو روشنی سے زود حسی ہو جاتی ہے اور طبیعت گھبراتی ہے لیکن کو نیم میں اگر آنکھ میں ورم اور سوزش کی کوئی علامت نہ پائی جائے پھر بھی روشنی سے طبیعت گھبراتی ہے اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔یہ کونیم کی خاص علامت ہے۔۔کو نیم السر اور زخموں کے رجحان کے لئے مفید ہے یہاں تک کہ کور نیا آنکھ کی پتلی ) کے زخم میں بھی مکمل شفا بخشنے کی طاقت رکھتی ہے۔کو نیم کا فالج آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔اگر اسی وقت کو نیم دے دی جائے تو بیماری مزید نہیں بڑھتی اور جلد شفا ہو جاتی ہے۔اگر فالج ہو جائے تو پھر ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے۔بعض دفعہ غذا کی نالی کے اعصابی چھلوں میں فالجی کمزوری واقع ہو جاتی ہے جس سے نگلنے میں دقت ہوتی ہے۔اس میں دیگر دواؤں کی طرح کو نیم بھی مفید ہے۔بسا اوقات عورتوں میں رحم نیچے گرنے کا احساس ہوتا ہے اور بوجھل پن نمایاں ہوتا ہے۔خاوند کی وفات یا علیحدگی کے غم کے نتیجہ میں رحم میں فالجی علامات پیدا ہو جائیں جو آہستہ آہستہ بڑھیں، جلد کے سن ہونے کا احساس بھی ہو اور ہاتھ پاؤں کا سونا اور چکر بھی پائے جائیں تو کو نیم ضروری دوا ہے۔اس کے نتیجہ میں رحم کے منہ پر سوزش ہو تو اس میں بھی کو نیم مؤثر ثابت ہوگی۔اگر کو نیم دوانہ بھی ہو تو اس کے شروع کروانے سے، جبکہ دوسری دوائیں بھی دی جائیں ، نقصان کو ئی نہیں۔کو نیم عورتوں اور مردوں کی جنسی امراض میں بھی مفید ہے۔اگر حیض کے ابتدائی