ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 182
کیڈمیم سلف 182 کیڈمیم سلف میں تشیخ بھی پایا جاتا ہے اور زنک کی طرح اس کا اثر عضلات پر ظاہر ہوتا ہے۔زنگ کا مریض متاثرہ عضو کو ہر وقت حرکت دیتا رہتا ہے اور اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر ملتا رہتا ہے یا ٹانگ ہلاتا رہتا ہے۔کیڈ میم کا مریض جسم میں ہر جگہ بے چینی تو محسوس کرتا ہے مگر زنگ کی طرح متحرک نہیں رہتا۔کیڈمیم سلف آنکھ کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔پپوٹوں کے ورم ، آنکھ کے درد، زخموں اور ناسوروں میں اگر دیگر علامتیں ملتی ہوں تو بہت کارآمد ہے۔یہ آنکھ کے چھپر کے فالج کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔آنکھوں کے ظاہری عوارض کے علاوہ اندرونی اعصابی ریشوں کو طاقت بخشنے میں بھی مفید ہے۔کیڈ میم زیادہ تر ایک جانب کی تکالیف کی دوا ہے۔اس میں مرض عموماً ایک ہی طرف پایا جاتا ہے۔میں نے اسے عموماً بائیں طرف کے فالج میں مفید دیکھا ہے۔فالج کا اثر ایک آنکھ پر یا جسم کے ایک جانب ہوتا ہے۔Apoplexy کے نتیجہ میں ایک بازو یا ٹانگ میں کمزوری رہ جائے تو فاسفورس بھی مفید دوا ہے۔کیڈمیم کے مریض میں جلد کے فالج کے بعد بے حسی تو معروف بات ہے لیکن یہ امر نظر انداز نہیں ہونا چاہئے کہ فالج ہونے سے پہلے جلد بہت زیادہ زود حس ہو جاتی ہے۔مفلوج حصوں میں درد اور چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہوتا ہے۔بعض اعضاء انفرادی طور پرسن ہو جاتے ہیں چنانچہ ناک یا کان کا سن ہو جانا بھی اس دوا میں نظر آتا ہے۔ایک تکلیف دہ علامت یہ ہے کہ نگلنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور نگلنا مشکل ہو جاتا ہے۔بسا اوقات عمر کے ساتھ ساتھ یہ طاقت کم ہونے لگتی ہے اور کھانا سانس کی نالی میں چلا جاتا ہے اور بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ایسے مریضوں کے لئے کیڈ میم سلف بہت مفید بلکہ ضروری دوا بن جاتی ہے۔بعض بچوں میں بھی یہی علامت پائی جاتی ہے۔کیڈمیم سلف ہڈیوں پر بھی اثر انداز ہونے والی دوا ہے۔کیڈ میم سلف کا نزلہ مزمن ہو جائے تو ناک کی ہڈیاں گھلنے لگتی ہیں۔مرکزی کی طرح کیڈ میم میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔