ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 172

برائیونیا 172 بیماری ظاہر ہوتی ہے۔اگر برائیو نیا کے مریض کو صبح سردی لگی ہو تو شام کو اس کے اثرات ظاہر ہو جائیں گے اور اگلے روز صبح تک مرض پوری شدت سے حملہ کر چکا ہوتا ہے۔جوڑوں کے در داور اعصابی تکلیفیں بڑھتی اور مزمن شکل اختیار کر لیتی ہیں۔جو امراض فوری نوعیت کے ہوں ان میں بھی برائیونیا کا یہی مزاج ہے۔برائیونیا کی بیماریاں عموماً نو بجے شام کو زیادہ ہو جاتی ہیں اور ساری رات رہتی ہیں۔کیمومیلا اور نیٹرم میور میں صبح نو بجے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ان اوقات کی پابندی کی کوئی ٹھوس اطمینان بخش وجہ معلوم نہیں ہو سکی مگر قدرت نے دواؤں کو ایسا ہی بنایا ہے۔برائیونیا کی طرح چیلی ڈونیم (Chelidonium) دائیں طرف کی دوا ہے۔جگر کی خرابی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔اس کے ہر اخراج میں زرد رنگ نمایاں ہوتا ہے۔بلغم بھی زرد ہوتی ہے۔چیلی ڈو نیم میں جگر کی دردیں پیچھے کمر کی طرف نکلتی ہیں جیسے پتے کی دردیں پیچھے کمر کو جاتی ہیں اور حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔اگر حاملہ عورت بہت تھک جائے یا لو لگنے سے حمل کے ساقط ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے تو برائیو نیا دینی چاہئے لیکن آرنیکا 200 ساتھ ملالی جائے تو تھکاوٹ کے بداثرات کی بھی روک تھام ہو جاتی ہے۔اگر کوئی چوٹ لگ گئی ہو تو برائیو نیا آرنیکا کے ساتھ ملا کر اسقاط کا خطرہ ٹالنے میں بہت مفید ہے مگر فوراً دینی چاہئے اور ساتھ ایکونائٹ بھی ملا لینی چاہئے۔مددگار دوائیں : رسٹاکس۔ایلومینا دافع اثر دوائیں : ا یکونائٹ۔کیمومیلا نکس وامیکا طاقت : 30 سے 1000 تک