ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 171

برائیونیا 171 ایسے مریضوں کا جگر لاز م تباہ ہو جاتا ہے، بھوک ختم ہو جاتی ہے، بچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتے ہیں، گلے مزید پھولنے لگتے ہیں، بخار غدودوں کو اور بھی موٹا کر دیتا ہے۔پس جہاں تک ممکن ہوا اینٹی بائیوٹک دواؤں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔سلفر اور پائیر وینم 200 کی طاقت میں انفیکشن کا مقابلہ کرنے کے لئے عمو منا اچھی دوائیں ہیں اور بہت گہرا اثر رکھتی ہیں۔اسی طرح سلیشیا بھی اونچی طاقت میں بعض دفعہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔یہ فائدہ نہ دیں تو بیلا ڈونا، فائیٹو لا کا، کلکیر یا فلور، فیرم فاس اور پیٹیشیا 30 میں ملا کر بار بار دی جائیں تو بعض دفعہ ایک ہی رات میں یہ مرض قابو میں آجاتا ہے۔اس نسخہ کے علاوہ اگر فیرم فاس، سلیشیا ، کالی میور، کلکیر یا فاس، میگ فاس 6x میں ملا کر دن میں چھ سات مرتبہ جاری رکھی جائیں تو بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔اگر اس سے ایک رات میں بخار نہ ٹوٹے تو عموماً دو تین راتوں کے اندرکم ہوتے ہوتے ٹوٹ جاتا ہے۔نکس وامیکا کی طرح اگر برائیونیا بھی ضرورت سے زیادہ استعمال کی جائے تو سر درد شروع ہو جاتا ہے۔دونوں کا تریاق جلسیمیم ہے۔برائیونیا میں بیاری کا ادلنا بدلنا دوطرح سے شروع ہوتا ہے۔ایک یہ اخراجات یا پسینہ وغیرہ کے رکنے سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔علاج کریں تو اخراجات دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں۔اندرونی جھلیاں بھیگ جاتی ہیں اور جلد سے پانی کا عام اخراج شروع ہو جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر عورتوں کا ماہانہ نظام بند ہو جائے تو ناک سے خون جاری ہو جاتا ہے۔اگر ایسی صورت میں برائیو نیا دیں تو بہت جلد افاقہ ہوتا ہے۔سانس کی نالی میں چپکی ہوئی بلغم سے عارضی دمہ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔کھانس کھانس کر بہت مشکل سے ایسی بلغم کو نکالنا پڑتا ہے۔اگر بلغم دھاگے دار ہو تو کوکس بہر حال اس کی سب سے بہتر دوا ہے۔اگر نزلہ بگڑ جائے اور گہری انفیکشن ہو جائے تو بلغم کا رنگ سبزی مائل ہو جاتا ہے جو مرض کے مزید بگڑنے کی علامت ہے۔برائیونیا میں مرض آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہے کہ کئی دن کے بعد