ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 136

بیلاڈونا 136 نمایاں ہوتی ہے۔گلا اچانک پھول جاتا ہے اور سخت سوزش ہوتی ہے، گھونٹ بھرنا بھی دوبھر ہوتا ہے۔ایسی تکلیف میں بیلاڈونا بہت مفید ہے۔اس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ بیرونی طور پر گلینڈز کے اوپر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے بن جاتے ہیں۔کچھ دیر تک یہ سرخی رہتی ہے پھر میلے میلے سے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔جوڑوں کے درد میں بھی سوزش اور سرخی نمایاں ہوتی ہے جن پر بڑے بڑے سرخ دانے بھی بنتے ہیں جو بعد میں رنگ بدل لیتے ہیں۔لیکن ان میں پیپ نہیں بنتی۔پتے کے اچانک درد میں بھی ، اگر اس میں تیزی اور اشتعال پایا جائے تو بیلاڈونا فوری آرام پہنچا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ تکلیف گرمی سے بڑھتی ہو۔بیلا ڈونا کے بعد پھر مستقل علاج کے لئے سلفر، نیٹرم سلف لائیکو پوڈیم اور چیلی و وتیم کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔پتے سے تشیع کے علاوہ گردوں کے شدید درد میں بھی پیلاڈونا بہت مفید ہے۔اگر اس کے ساتھ ایکونائٹ ملا کر دی جائے تو اور بھی اچھا کام کرتا ہے۔دونوں ملا کر ایک ہزار طاقت میں دس پندرہ منٹ کے وقفہ سے دو تین بار دہرائی جاسکتی ہیں۔اگر فائدہ نہ ہو اور مریض کو گرمی سے آرام آتا ہو تو اس کی بجائے کولو سنتھ CM یا میگ فاس 6x پانی میں ملا کر بار بار دینا مفید ہے۔شیخ بظاہر ایک ہی طرح کا ہوتا ہے لیکن مزاج کے فرق سے علاج مختلف ہو جائے گا۔بیلا ڈونا کے مزاج میں سوجن بھی داخل ہے۔چوٹوں کے نسخہ میں آرنیکا کے ساتھ بیلاڈونا ملا کر دینا آرنیکا کا فائدہ بڑھا دیتا ہے کیونکہ چوٹ لگنے کے ردعمل کے نتیجہ میں خون تیزی سے متاثرہ عضو کی طرف حرکت کرتا ہے۔اسی وجہ سے ڈاکٹر عموماً فوری علاج کے طور پر ٹھنڈی ٹکور تجویز کرتے ہیں۔بیلاڈونا ٹھنڈی ٹکور سے بھی زیادہ زود اثر ہوتا ہے۔اگر آرنیکا کے ساتھ ملا کر دیں تو ہر چوٹ کے آغاز کے لئے یہ بہترین نسخہ ہے۔بیلا ڈونا کے مریض کی عام تکلیفیں گرمی سے بڑھتی ہیں لیکن ماؤف حصہ پر ٹھنڈی ٹکور سے آرام آتا ہے۔اگر جگر اور انتڑیوں میں ورم اور سوزش ہو تو سارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا