ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 135

بیلاڈونا 135 کے باوجود موجود رہتی ہے اور بار بار لوٹ آتی ہے۔سٹرامونیم بیلاڈونا سے زیادہ لمبا اثر کرنے والی دوا ہے۔ٹائیفائیڈ میں بھی بعض بیلا ڈونا کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں، دماغ کو بخار چڑھ جاتا ہے اور مریض ہذیان بکنے لگتا ہے۔اگر اس میں پیلاڈونادیں تو وقتی افاقہ تو ضرور ہو گا لیکن کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ ٹائیفائیڈ کا بیلاڈونا سے مزاجی تعلق نہیں ہے۔سٹرامونیم بیلا ڈونا کی نسبت ٹائیفائیڈ سے زیادہ قریب ہے کیونکہ یہ کسی حد تک مزمن دوا ہے۔اس لئے یہ ٹائیفائیڈ میں دماغ کی ہذیانی کیفیت کو بھی دور کر سکتی ہے اور ٹائیفائیڈ سے شفا کا موجب بھی بن سکتی ہے۔دماغی مریضوں کو سٹرامونیم اور سلفر فائدہ پہنچاتی ہیں خواہ انہیں ٹائیفائیڈ ہو یا نہ ہو۔بعض دفعہ پاگلوں میں تشدد کے علاوہ مخش گوئی کا رجحان بھی ملتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اندرونی جنسی عضلات میں کوئی سوزش ہے۔اسے ٹھیک کرنا ضروری ہے۔بعض لوگوں کے ذہن پر پرانے صدموں کا اثر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ پاگل ہو جاتے ہیں۔بعض غم اور مالی نقصان کے اثر سے ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔پاگل پن کے علاج میں بہت گہرائی میں جا کر مرض کی تشخیص ضروری ہے لیکن بعض اوقات معالجین کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا اس لئے روز مرہ کے نسخہ کے طور پر سٹرامونیم اور سلفر سے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بیلا ڈونا کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کا بخار مسلسل چلتا ہے ، جب ٹوٹے گا تو دوبارہ نہیں ہوگا۔ٹائیفائیڈ کا بخار بالکل الگ مزاج رکھتا ہے یعنی اکثر رات کو تیز ہو جاتا ہے اور صبح کے وقت کسی حد تک اتر جاتا ہے مگر اگلے دن پھر واپس آ جاتا ہے اور اتنی شدت کا ہوتا ہے کہ ختم ہونے سے پہلے مریض کو مار بھی سکتا ہے۔بیلا ڈونا کا بخار جب ختم ہوتا ہے تو اچانک ختم ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ بخار جو ٹھیک نہ ہوں مگر کسی تیز دوا کے اثر سے دب گئے ہوں اور پھر دوبارہ اچانک ظاہر ہو جائیں ان میں بیلا ڈونا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ایسے بخار جو آہستہ آہستہ چڑھتے ہیں ان کی دوا بیلا ڈونا نہیں۔بیلا ڈونا کے مریض کی جلد پر نکلنے والے دانوں اور غدودوں کی تکلیف میں سوزش