ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 97
آرسینک 97 میں اگر ہاتھ کٹوانے سے جان بچ سکتی ہے تو دیر ہو جانے پر بعض دفعہ بازو بھی کٹوانا پڑتا ہے اور پھر بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ گینگرین جسم اور دماغ کو متاثر نہ کرے گی۔عام ناسوروں میں جو گہرے ہوں اور ہڈی کو بھی کھا رہے ہوں تو آرسینک سے زیادہ کالی آیوڈائیڈ (Kali Iodide) یا آرسینک آیوڈائیڈ بہتر کام کرتی ہیں۔آرسینک کی بیماریاں دن یا رات کو بارہ بجے کے بعد شدید ہو جاتی ہیں۔رات کو مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے اور مریض خوف محسوس کرتا ہے اور اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا۔تکلیف بہت بڑھ جائے تو کسی کی موجودگی بھی فائدہ نہیں دیتی۔آرسینک کے مریض کے جسم میں جگہ جگہ سوزش کی علامات ملتی ہیں خواہ وہ بیرونی ہوں یا اندرونی۔آنکھ میں بھی آرسینک کے مریض کی سوزش بہت نمایاں ہوتی ہے جو ساری آنکھ پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن کالی کارب میں یہ سوزش اوپر کے چھپر تک محدود رہتی ہے۔ایپس میں سوزش کے ساتھ آنکھ کے نیچے پھیپھلی ورم پیدا ہو جاتی ہے۔آرسینک کے مریض کے چہرے پر بھی بعض دفعہ وقت سے پہلے بڑھاپے کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔یہ علامت سارسا پر یلا (Sarsaparilla) اور چینینم آرس (Chininum Ars) میں آرسینک کے مقابل پر بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔اگر پراسٹیٹ گلینڈ ز، گردے اور مثانے کی بیماریوں میں آرسینک کی علامات موجود ہوں لیکن آرسینک اکیلی کافی نہ ہو تو فاسفورس اس کی مددگار دوا ثابت ہوتی ہے۔دونوں کو یکے بعد دیگرے دینا بھی میرے تجربے کے مطابق بہت مفید ثابت ہوا ہے۔یہی نسخہ کینسر میں بھی بہت افاقہ کا موجب بنتا ہے۔یہ نسخہ ایک ایسے مریض پر بھی استعمال کیا گیا جس کے متعلق ڈاکٹروں کا فیصلہ تھا کہ ایک ہفتے سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔لیکن اسے ان دواؤں سے نمایاں فائدہ ہوا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بعد ازاں وہ ایک سال کی مدت تک بغیر تکلیف کے زندہ رہا۔آرسینک کی بے چینی بعض دفعہ پاگل پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔خود کشی کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور مریض اس وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میری بخشش کے دن گزر چکے