ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 96

آرسینک 96 خشک کھانسی اور خشک دمہ میں بھی آرسینک کو بہت شہرت حاصل ہے۔ناک میں سوزش ہو جائے ، خارش محسوس ہو، چھینکیں آنے کا رجحان ہو، ناک سے پانی کی طرح پتیلی رطوبت بہے اور گلے کے گلینڈ ز سوج جائیں تو ان علامتوں سے بھی آرسینک کی نشاندہی ہوتی ہے۔آرسینک دل کے لئے بھی اچھی دوا ہے۔اس کے مریض کی نبض باریک ہوتی ہے مگر با وجود کمزوری محسوس کرنے کے نبض میں تیزی اور تناؤ پائے جاتے ہیں۔ایکونائٹ اور بیلا ڈونا کے مریض کی نبض بھر پور اور کار بوویج کے مریض کی نبض بالکل کمزور اور نرم ہوتی ہے۔ذراسا زور سے دبانے سے غائب ہو جاتی ہے۔یہ بنیادی فرق یا درکھیں تو نبض کے ذریعہ مریض کی شناخت آسان ہو جائے گی اور آپ صحیح دوا تک بآسانی پہنچ جائیں گے۔گینگرین (Gangrene) کے تکلیف دہ مرض میں جس میں اعضاء گلنے سڑنے لگتے ہیں۔آرسینک بہت اہمیت رکھتی ہے۔میرے تجربے میں یہ بات ہے کہ جہاں ڈاکٹروں نے گینگرین کے خطرے کی وجہ سے اعضاء کاٹنے کا قطعی فیصلہ کرلیا تھا وہاں مریض نے میرے کہنے پر آرسینک 200 یا اونچی طاقت میں استعمال کی اور خدا تعالی سے فضل سے گینگرین کی جو علامتیں ظاہر ہو چکی تھیں وہ سرے سے غائب ہو گئیں۔ایک نوجوان کا ہاتھ مشین میں آ کر کچلا گیا، اس کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور بگڑ کر گینگرین میں تبدیل ہو گئے۔ڈاکٹر نے مایوس ہوکر پہلے انگوٹھا اور پھر بازوکٹوانے کا مشورہ دیا۔میں نے اس کے لئے آرسینک سی ایم (CM) تجویز کی اور ہفتہ دس دن کے بعد دہرانے کو کہا۔چند ہفتوں کے بعد اس نے لکھا کہ درد تو ہے لیکن سیاہی رفتہ رفتہ سرخی میں تبدیل ہو رہی ہے۔کچھ ہی عرصہ میں اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ہو گیا اور بازو کٹوانا تو کجا، ہاتھ کی انگلیاں کٹوانے کی نوبت بھی نہ آئی۔لیکن ایک بات یادرکھیں کہ اگر آرسینک سے نمایاں فائدہ سامنے نہ آئے تو بہتر ہے کہ کوئی اور دوا مثلاً سلیشیا یا سلفراونچی طاقت میں دے کر مرض کو قابو میں لائیں ورنہ بہتر ہے کہ سرجن کا مشورہ قبول کر لیا جائے۔آغاز