ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 70
امیس 70 خوراکوں میں ہی آرام آجاتا ہے۔ایپس عرصہ اثر کے لحاظ سے درمیانہ درجہ کی دوا ہے اور اس میں فائدہ کچھ دیر استعمال کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن بہت لمبے انتظار کی ضرورت پیش نہیں آتی۔عموماً دس پندرہ دن یا ہفتے کے اندر ہی اثر شروع ہو جاتا ہے۔ہاں انتڑیوں میں شکنجہ پڑنے کی صورت میں فوری اثر دکھاتی ہے۔گھنٹہ دو گھنٹہ میں نمایاں فرق پڑ جاتا ہے۔دماغ کے ورم میں بھی فوری اثر دکھاتی ہے لیکن اگر بچے کو ہائیڈروکسیفلیس (Hydro Cephalus) ہو یعنی سر بڑا ہوتے چلے جانے کی بیماری ہو تو اگر چہ ایپس کا فوری فائدہ دکھائی دیتا ہے لیکن یہ اس مرض کی مستقل دو ا نہیں ہے۔اس لئے فوری طور پر اس مرض کی مستقل دو اسلیشیا استعمال کرانی چاہئے جو کہ سب دواؤں میں زیادہ مؤثر ہے۔یہ چھوٹی طاقتوں سے شروع کر کے بعض دفعہ بہت اونچی طاقتوں میں بھی دینی پڑتی ہے۔پیٹ کی تکلیفوں میں ہوا کے تناؤ میں ایپس فوری فائدہ دیتی ہے لیکن انتریوں کی بعض مزمن تکلیفوں میں لمبے عرصہ تک اسے استعمال کرانا پڑتا ہے۔ایک عمومی اصول یا درکھنے کے لائق ہے کہ جہاں علامتیں آہستہ آہستہ پیدا ہوں وہاں دوا بھی آہستہ آہستہ اثر دکھائے گی۔جہاں علامتیں فوری پیدا ہوں وہاں دوا بھی فوری اثر دکھاتی ہے۔گردے کی تکلیف میں جب ایپس کو لمبا عرصہ استعمال کرنا پڑتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فائدے کے آثار بھی بہت دیر بعد ظاہر ہوتے ہیں۔اگر گردے کی بیماری میں ایپس کام کر رہی ہو تو مستقل بیماری ٹھیک ہونے میں تو وقت لگے گا لیکن ہفتہ دس دن کے اندر گر دے پیشاب زیادہ بنانے لگیں گے جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ایمپس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔اس صورت میں دوا کی طاقت آہستہ آہستہ بڑھا دینی چاہئے اور خوراکوں کا وقفہ لمبا کر دینا چاہئے۔اس کا طریق کار تفصیل سے ٹیوبر کیولینم یا ٹیسیلینم میں بیان ہوا ہے اسے Rising Potency کہا جاتا ہے۔مددگاردوا نیٹرم میور دافع اثر دوائیں : کینتھرس۔اپی کاک لیکیس۔لیڈم۔نیٹرم میور طاقت : 30 سے 200 تک