حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 74 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 74

74 اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے مقدر تھا کہ رسول کریم میم کی روحانی اولاد اور آپ کے شاگردوں میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا جائے۔رسول کریم میں ملو یا لیلی نے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا تو كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَدَا لَاء اور بعض جگہ رِجَالُ مِنْ فَارَسَ کے الفاظ آتے ہیں۔یعنی ایمان اگر ثریا سے بھی معلق ہو جائے گا تب بھی سلمان فارسی کی نسل میں اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو ایمان کو دنیا میں قائم کر دیں گے خالی پیشگوئی ہی نہیں بلکہ رسول کریم ملی ایم کی ایک آرزو ہے ایک خواہش ہے ایک امید۔۔۔۔۔۔۔رسول کریم عالم کے زمانہ میں ایک فتنہ اٹھا۔صحابہ نے اس وقت جو نمونہ دکھایا وہ تاریخ کی کتابوں میں آج تک لکھا ہے۔۔۔۔رسول کریم میں یہ ایک جنگ میں جو فتح مکہ کے بعد ہوئی شامل ہوئے۔وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔اور ان کے علاوہ کچھ کا فر رسول کریم میل کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں بھی اس لشکر میں شامل ہونے کی اجازت دیجئے جس نے ہوازن کا مقابلہ کرنا تھا۔۔۔انہوں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ نے شامل ہونے کی اجازت دے دی۔دس ہزار کا لشکر۔۔۔۔جس نے مکہ فتح کیا تھا اور دو ہزار یہ لوگ۔۔۔بارہ ہزار کا لشکر میدان جنگ وره کی طرف چل پڑا۔جس وقت ہوازن کے قریب پہنچے تو وہاں ایک د تھا۔۔۔اچھے ہوشیار تیز انداز سڑک کے دونوں طرف پڑے تھے۔۔۔۔دو ہزار کمزور ایمان والے۔۔۔۔۔غرور اور تکبر کی حالت میں جوں ہی تیراندازوں کی زد میں پہنچے۔ہوازن کے تجربہ کار تیز اندازوں نے ان پر بے تحاشا تیروں کی بارش کر دی۔۔۔۔۔اور وہ ڈر کر میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔دو ہزار گھوڑوں کا صفوں کو چیرتے ہوئے گزرنا تو معمولی امر نہ تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ باقی دس ہزار آدمیوں کے گھوڑے بھی بدک گئے