حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 687 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 687

637 وو۔۔۔تیسری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب تم اسلام کو پھیلانے کے لئے مغرب کی متمدن دنیا میں جاؤ گے تو تم دیکھو گے کہ یہ مہذب کہلانے والی قومیں اخلاقی اعتبار سے بالکل دیوالیہ ہیں۔پس ان قوموں کو اسلام کا گرویدہ بنانے کے لئے اپنے اندر اخلاقی اعتبار سے حسن پیدا کرو۔اس کے لئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام تم پر کیا اخلاقی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرتے ہوئے اپنے عمل و کردار کو اسلامی اخلاق کے سانچے میں ڈھالو۔اسلامی اخلاق کا حسین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرو تاکہ دوسروں کو اسلام کی طرف کھینچ سکو ۳۵۰ اسلامی پرده اسلامی پردہ کی اہمیت حضور پر بچپن سے ہی واضح تھی۔چنانچہ ۱۹۲۷ء میں جب کہ حضور کی عمر اٹھارہ سال کے لگ بھگ تھی اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں۔پر دہ ہاں وہ پر وہ جس سے اسلام کی شان بلند ہوتی تھی اس سے آج اسلامی دنیا پھر رہی ہے حالانکہ پہلے زمانہ میں باوجود اس پردہ کے عورتیں مردوں سے کم کام نہ کرتی تھیں جیسے عائشہ تیموریہ کہتی ہیں۔گو آج کے فلسفی کہتے ہیں کہ پردہ سے عورتوں کے حقوق مارے جاتے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں۔اسلامی پردہ سے ہرگز عورتوں کے حقوق تلف نہیں ہوتے گو رواجی پردہ میں یہ نقص ہے اور اگر یہ بات ٹھیک ہوتی تو مسلمان پہلے زمانہ میں اس حد تک ترقی نہ کر سکتے جبکہ ترقی کا راز ایک حد تک عورتوں پر موقوف ہے “ حضور یورپ و امریکہ کے دوروں کے دوران وہاں بسنے والے احمدیوں کو بالخصوص پردہ کے بارے میں تلقین فرمایا کرتے تھے۔ایک بار ۱۹۸۰ء میں نہایت جلال سے فرمایا :-