حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 682 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 682

632 - حضور کا گھوڑوں سے پیار اور توکل کا ایک واقعہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث " نے جو گھوڑے پال رکھے تھے ان کے باقاعدہ نام رکھے ہوئے تھے۔حضور کے سائیس اللہ داد صاحب ابن ولی داد صاحب نے بتایا کہ حضور ” جب بھی ربوہ سے باہر تشریف لے جاتے انہیں بلا کر گھوڑوں کی دیکھ بھال کی ہدایات دے کر جاتے۔حضور کے گھوڑوں میں سے بعض کے نام یہ ہیں (1) ورد (II) نیم بخت (III) لینی ایک دفعہ نیم بخت گھوڑی کے کندھے میں درد ہو گیا۔حضور اصطبل میں تشریف لائے اور اللہ داد سے پوچھا کہ ابھی ٹھیک نہیں ہوئی؟ اللہ داد نے عرض کیا کہ دو سال سے علاج ہو رہا ہے ٹھیک نہیں ہوئی۔حضور نے فرمایا ادھر لاؤ اور چار پانچ۔گھوڑی کے کاندھے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کر کے پھونکا اور فرمایا ٹھیک ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے گھوڑی صبح تک ٹھیک ہو گئی۔حضور سے گھوڑوں کو اتنا پیار تھا کہ جب بھی حضور اصطبل میں داخل ہوتے جانور دروازے پر آکر کھڑے ہو جاتے۔حضور انہیں پیار کرتے اپنے ہاتھ چارہ ڈالتے۔حضور” کی وفات کے بعد صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ابن حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " ایک مرتبہ اسی قسم کے لباس میں تشریف لائے جس لباس میں حضور اصطبل میں آتے تھے۔سارے جانور حضور کی یاد میں میاں صاحب سے پیار کروانے آئے اور جس گھوڑے پر حضور سواری کرتے تھے وہ گھوڑا ساری رات نہ سویا اور مسلسل بولتا رہا۔۱۹۷۱ء میں ایک مرتبہ گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور حضور گھوڑے سے گر گئے اور کافی عرصہ زیر علاج رہے۔حضور کو سخت بستر پر سونا پڑا۔ان ایام کا ذکر کرتے ہوئے حضور ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے حضور کے توکل علی اللہ اور اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ قدرتوں پر یقین کا اندازہ ہوتا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔۔