حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 635 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 635

584 اور دوسرے اس تعلق میں جو ذمہ داری نظام جماعت پر عائد ہوتی ہے اس کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس بچہ کو اللہ تعالیٰ ذہن رسا عطا کرتا ہے اس کی ذہنی نشود ارتقاء کی ذمہ داری خود اس بچہ پر بھی عائد ہوتی ہے اور نظام جماعت پر بھی۔بہت سے اچھے بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ذہین پیدا کرتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ غفلتوں، بد عادتوں یا بد صحبتوں کے نتیجہ میں اپنی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے، اس طرح وہ ان ترقیات سے محروم وہ جاتے ہیں جو انہیں یقینا مل سکتی تھیں بلکہ وہ جماعت اور قوم کو بھی اس فائدہ سے محروم کر دیتے ہیں جو ان کی خداداد ذہنی صلاحیتوں کی صحیح نشو و نما کی صورت میں اسے پہنچ سکتا تھا۔اس لئے ہر احمدی بچے کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کی پوری مستعدی کے ساتھ نشو و نما کرتا رہے۔اگر کوئی بچہ ایسا ہے جو اپنی ذہنی استعداد کی نشوونما نہیں کرتا تو وہ اپنے نفس کا بھی گناہ گار ہے اور جماعت کا بھی مجرم ہے۔۔۔۔۔۔جن بچوں کو اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں ان کی بہر حال نشو و نما ہونی چاہئے اور ان کی نشوونما کی ذمہ داری خود بچوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور جماعت پر بھی۔۔۔۔اگر ہم بین الا قوامی سطح پر ستر پچھتر فیصد سے اوپر نمبر لینے والے دو تین سو بچے پیدا کرنے لگیں تو اس کا بہت اثر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بہت اچھے نتائج رونما ہو سکتے ہیں اس کے لئے ایک تو یہ ضروری۔ہے کہ احمدی بچے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں دوسرا ضروری امر یہ ہے کہ جماعتی سطح پر اس امر کی کوشش کی جائے کہ کوئی بچہ جسے اللہ تعالٰی نے ذہنی دولت عطا کی ہے جماعت اس دولت کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔