حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 633
582 فرمایا:۔و اس منصوبہ کو جاری کرنے سے میرا مقصد یہ ہے اور میری تمام تر دلچسپی اس بات میں ہے کہ قرآن کریم کے علوم کی زیادہ سے زیادہ ترویج و اشاعت ہو ۶۲؎ " اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے جلووں کو جو کائنات ارضی و سماوی میں ہر آن ظاہر ہو رہے ہیں آیات قرار دے کر اور ان پر غور کرنے والوں کو اولوالالباب قرار دے کر دنیوی علوم کو روحانی علوم کی طرح ہی اہم قرار دیا ہے اور ان دونوں علوم کو ایک دوسرے کا ممد و معاون ٹھہرایا ہے۔اس منصوبہ کی اہمیت یہ ہے کہ افراد جماعت کو دنیوی علوم سے درجہ بدرجہ آراستہ کر کے ان میں قرآنی علوم و معارف سے بہرہ ور ہونے کی اہلیت پیدا کی جائے " ۶۳ جتنی مادی علوم کی تحصیل تم کرو گے اتنا ہی زیادہ صفات الہیہ کے جلووں سے تمہیں آگاہی حاصل ہو گی۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات اور کائنات پر ظاہر ہونے والے ان صفات کے جلووں کا علم حاصل کرو تاکہ تمہاری معرفت ترقی پذیر ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد بنو۔اسی لئے اللہ تعالٰی کا منشاء یہ ہے کہ تم دینی علوم بھی حاصل کرو اور ہر مادی علم بھی سیکھو " ۶۴؎ " ہم کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہم اس کے قریب ہوں اور اس کی ذات کا عرفان حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ ساری دنیا کا علم رکھتا ہے اور دنیا کے تمام علوم کیمسٹری ، حساب ، فزکس، جغرافیہ ، فلکیات وغیرہ وغیرہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور جتنا زیادہ آپ ان علوم کو حاصل کرتے جائیں گے اتنا زیادہ آپ خدا کی صفات کا علم حاصل کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ اس کی صفات کا علم حاصل کریں اور دنیا کی ہر سائنس پڑھیں » ۶۵۔