حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 584
533 ضرورت ہے۔ہمیں ٹیچروں کی ضرورت ہے۔ہمیں بڑی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کچھ نہیں ہو سکتا جب اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اپنے پیار کا جلوہ دکھائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی ۲۷ نصرت جہاں سکیم کا نام اور غیر معمولی تائید و نصرت حضرت خلیفہ المسیح الثالث" کے دل میں مغربی افریقن ممالک کی خدمت کے لئے خرچ کرنے کا جو القاء گیمبیا کے مقام پر ہوا اور جو منصوبہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو سمجھایا اس کا نام حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شریک حیات حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے نام پر نصرت جہاں آگے بڑھو منصوبہ " رکھا حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے متعلق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔” میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہو گی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاول کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہانوں کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی " پیشگوئی مخفی ہوتی ہے" غرض یہ وہ منصوبہ ہے جو سارے جہان میں اسلام کی نصرت کا باعث ثابت ہو گا۔اس لئے حضور نے اس سکیم کے لئے حضرت نصرت جہاں بیگم کے لخت جگر اور اپنے مقدس والد اور پیشرو خلیفہ کی خلافت کی مدت کے برابر رقم کی خواہش فرمائی اور اللہ ย تعالٰی نے حضور کی خواہش کو پورا فرمایا۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے وقت بہت سے دوستوں کا یہ خیال تھا که شاید میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکے گی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ کی خلافت کے جتنے سال ہیں اتنے لاکھ روپے جمع ہو جائیں مگر جماعت نے اس فنڈ میں بڑی قربانی دی چنانچہ میری خواہش تو ۵۱ لاکھ روپے کی