حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 568
517 سے زیادہ پھل دیتا چلا جائے " (۲۵ مئی ۱۹۶۹ء بحوالہ سالانہ رپورٹ فضل عمر فاؤنڈیشن) اور اول وعدوں کے حصول اور عطایا جات کی وصولی کا دور تھا اور اس کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن " کا دوسرا دور شروع ہوا جو اس کے اغراض و مقاصد پورے کرنے کا دور تھا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کے فرمودات کی روشنی میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے مقاصد درج ذیل مدنظر تھے۔ا۔لرحیم حضرت مصلح موعود کے بے مثال کارناموں اور عظیم الشان ان گنت احسانوں کی یادگار میں ۲۵ لاکھ روپے کا ایک ریز رو فنڈ قائم کرنا۔ہوتا۔۔تھی۔حضرت مصلح موعود کی یاد میں صدقہ جاریہ کے طور پر اس نئی سکیم کا جاری اس فاؤنڈیشن کے قیام سے کلمہ اسلام کی اشاعت میں سرعت پیدا کرنا۔۔اس فاؤنڈیشن سے جید عالم پیدا کرنا۔اس فنڈ سے بعض ایسے کام کرنا جن سے حضرت مصلح موعود” کی خاص دلچپسی اس فنڈ کی رقم یعنی جو سرمایہ ہے اس کو خرچ نہیں کرنا بلکہ اس فنڈ کو تجارت پر لگا کر اس کی آمد سے حاصل شدہ رقم سے جملہ کام سر انجام دینا۔اغراض و مقاصد کا تعین و" اغراض و مقاصد کے تعین کے لئے جماعت کے ۱۵۶ چیدہ چیدہ احباب کو مرکز میں مدعو کیا گیا۔۱۵۔جنوری ۱۹۶۷ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے دعاؤں کے ساتھ مجلس مقاصد " کا افتتاح فرمایا اور ضروری ہدایات سے نوازا۔مختلف طبقات و علاقہ