حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 544
491 مسیح محمدی" کے زمانہ میں اس وقت تک آپ کا پیغام تمام دنیا میں نہیں پہنچ سکتا تھا جب تک دنیا کی ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ نہ کیا جاتا۔ونکہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت دنیا کی اقوام میں سے کچھ قومیں چو انگریزوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں کچھ فرانسیسیوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں اور کچھ جرمنوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں اس لئے ہم اسلام کا پیغام ان تین زبانوں کے ذریعہ اقوام عالم کی خاصی بڑی تعداد تک پہنچا سکتے ہیں اگر روسی اور چینی بھی شامل کر لئے جائیں تو میرا خیال ہے کہ ۹۰٬۸۰ فیصدی آبادی کو ہمارا پیغام پہنچ جاتا ہے ورنہ ہمارے لئے بہت زیادہ جدوجہد اور کوشش اور قربانیوں اور مال خرچ کرنے کی ضرورت - پیش آتی۔اللہ تعالیٰ کے سارے ہی کام حکمت سے پر ہوتے ہیں۔اپنی خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر دسمبر ۱۹۸۱ء میں بھی حضور نے اپنی اس خواہش کو دہراتے ہوئے فرمایا:۔" میرے دل میں بڑی تڑپ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے زندگی اور صحت دے اور میں دنیا کی تین اہم زبانوں فرانسیسی، روسی اور چینی زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کروا کے تفسیری نوٹس سمیت ان ممالک میں پہنچا دوں۔اس سے انشاء اللہ تعالیٰ دنیا کی قریباً نوے فیصد آبادی ایسی ہوگی جس کے ہاتھ میں قرآن شریف پکڑا دیا جائے گا" حضور نے فرمایا:۔اللہ نے مجھے عزم بھی دیا ہے ہمت بھی دے اور میرا عزم ہے کہ جلد سے جلد یہ کام ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت حضرت مصلح موعود میں اللہ کے زمانہ خلافت میں تراجم قرآن کریم کے کام کا جائزہ پیش کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث " نے اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر ”