حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 514
461 کے اسرار اور بطون سے آگاہ کریں تاکہ جو نئی مصیبتیں انسان نے اپنے لئے پیدا کر لیں اور نئے مسائل اس کے سامنے آگئے ان کا کوئی حل ہو اور اس کی نجات کے لئے دروازے کھلیں۔اس زمانہ کے لئے اور اس ہزار سال کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآنی تفصیل میں بھی اور بیج کی حیثیت میں بھی موجود ہے۔یعنی جو اس زمانہ کے مسائل ہیں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہر وہ تفسیر کر دی جس کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔اس زمانہ میں قرآن کریم کو سمجھنے اور جاننے کے لئے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی زندگی کی ظلمات کو اور زندگی کے اندھیروں کو قرآن کریم کے نور سے نور میں بدلنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کا پڑھنا ضروری ہے۔آپ کی ساری کتب آپ کی سب تحریریں قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم سے باہر، قرآن کریم سے زائد ایک لفظ بھی نہیں لکھا، نہ قرآن پر کچھ زیادتی کی، نہ قرآن کریم سے کوئی کمی کی تفسیر بیان کرتے چلے گئے۔بعض ایسے بیان ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں لکھا کہ میں کس آیت کی تفسیر کر رہا ہوں اور ایک بیان دے دیا کسی مسئلے کے متعلق۔کسی وقت غور کرتے ہوئے وہ عبارت پڑھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو نہیں لکھی لیکن دماغ میں ایک آیت آجاتی ہے کہ آپ فلاں آیت کی تفسیر کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ہمیں تو کتابیں پڑھنے کی عادت ہونی چاہئے خصوصا وہ کتب جو ہماری جان ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھ کے اگر ہم نے محمد ملی یا اللہ کا نور حاصل نہیں کرنا تو زندہ رہ کے کیا کرنا ہے میں نے کہا کلب بناؤ۔خدام اپنی بنائیں۔انصار اپنی بنائیں ، لجنہ اپنی۔۔۔ہر گھر میں