حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 512 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 512

459 تحریک حفظ قرآن حضور خود حافظ قرآن تھے اور حضور کے دل میں یہ شدید تڑپ تھی کہ جماعت کے نوجوان کثرت سے حافظ قرآن بنیں چنانچہ حضور نے جماعت کے نوجوانوں کو تحریک فرمائی کہ وہ قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں اس طرح تھیں خدام مل کر پورا قرآن کریم حفظ کر لیں گے۔مجلس خدام الاحمدیہ نے اس تحریک پر کسی حد تک کام کرنے کی توفیق پائی اور نہر مجلس میں جس خادم نے جو پارہ یاد کرنے کے لئے چنا تھا وہ درج کر کے فہرستیں حضور کی خدمت اقدس میں بھجوائی جاتی رہیں اور جس جس خادم نے کوئی پارہ یاد کرنے کی توفیق پائی اس کی اطلاع بھی حضور کو بھیجوائی جاتی رہی۔غرض اس تحریک کے ذریعے قرآن کریم حفظ کرنے کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا اس کے علاوہ حضور نے جماعت کو اپنے بچے جامعہ احمدیہ سے ملحق حافظ کلاس میں بھجوانے کی بھی بار بار تحریک فرمائی۔چنانچہ جماعت کے ہر طبقہ میں یہ رجحان پیدا ہو گیا کہ انہوں نے اپنے ذہین ترین بچوں کو حافظ کلاس میں بھیجوانا شروع کیا۔حافظ کلاس میں توسیع کی گئی۔مستحق طلباء کے لئے وظائف کا انتظام کیا گیا۔اب صورت حال یہ ہے کہ ہر سال حافظ کلاس میں داخلہ کے لئے اتنی کثرت سے امیدوار آتے ہیں کہ ان میں سے انٹرویو لے کر صرف ایک محدود تعداد کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔۲۹ مطالعہ احادیث و کتب مسیح موعود علیہ السلام حضور کی نگاہ میں احادیث نبویہ اور کتب مسیح موعود علیہ السلام چونکہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں اس لئے قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ کرنا از حد ضروری قرار دیا۔اس حقیقت کو ایک موقع پر یوں بیان فرمایا:۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفسیر کے متعلق جو یہ ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے یعنی قرآن کریم کی بعض