حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 505 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 505

452 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا یہ نظریہ تھا کہ احمدیت کی دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے اور اس میں ہر احمدی کو داعی الی اللہ بننا پڑے گا جس کے لئے قرآن کریم کے علوم سیکھنا ضروری ہیں جس کے بغیر اسلام کو ساری دنیا میں پھیلایا نہیں جا سکتا۔چنانچہ تعلیم القرآن منصوبے کے آغاز پر ہی حضور کو جو نور کشفی حالت میں دکھایا گیا اس سے استدلال کرتے ہوئے ۵۔اگست ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا:۔" پس جیسا کہ نور کے اس نظارے سے جسے میں نے ساری دنیا میں پھیلتے دیکھا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی کامیاب اشاعت اور اسلام کے غلبہ کے متعلق قرآن کریم اور نبی کریم میں اللہ کی وحی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں جو خوشخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا اس لئے میں پھر اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر واجب ہے کہ ہر احمدی مرد ہر احمدی عورت، ہر احمدی بوڑھا ، پہلے اپنے دل کو نور قرآن سے منور کرے۔قرآن کریم سیکھے ، قرآن کریم پڑھے اور قرآن کریم کے معارف سے اپنا سینہ و دل بھر لے اور معمور کرلے، ایک نور مجسم بن جائے، قرآن کریم میں ایسا محو ہو جائے ، قرآن کریم میں ایسا گم ہو جائے قرآن کریم میں ایسا فنا ہو جائے کہ دیکھنے والوں کو اس کے وجود میں قرآن کریم کا ہی نور نظر آئے اور پھر ایک معلم اور استاد کی حیثیت سے تمام دنیا کے سینوں کو انوار قرآن سے منور کرنے میں ہمہ تن مشغول ہو جائے۔۱۳ تعلیم القرآن کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی عظیم الشان جد وجهد تعلیم القرآن کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث" نے مختلف تحریکات اور "