حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 488 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 488

433 نے شروع کئے ہیں ان کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں تو یہ تیری عطا ہے۔۔جس طرح حضرت خلیفہ ثالث اللہ کی رضا پر راضی تھے اسی طرح آج جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہے اور اسی میں برکت ہے۔جب بھی کوئی وصال کا موقعہ آتا ہے تو مختلف ریزولیوشن پاس ہوتے ہیں جن میں لفاظی اور مبالغہ آرائی بھی ہوتی ہے لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کی روایات کا تعلق ہے، میں پورے یقین پر کھڑے ہو کر یہ کہتا ہوں کہ بعض اوقات اپنی بات کہنے کے لئے مناسب الفاظ ہی نہیں ملتے اور جماعت کو اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرنا بھی ممکن نہیں ہو تا۔۔۔۔اس مرتبہ بھی جانے والے اور آنے والے کے بارے میں ریزولیوشنز (Resolutions) پاس ہوں گے۔میں اس موقعہ پر ایک اور طرف توجہ دلا کر جماعتی ریزولیوشنز(Resolutions) میں تبدیلی کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔جماعت کی شان اس سے زیادہ کا تقاضا کرتی ہے جو عام طور پر کیا جاتا ہے۔ان ریزولیوشنز میں جانے والے کے بارے میں یہ کہنا چاہئے کہ ہم تیری نیک یادوں کو زندہ رکھیں گے اور یہ عہد کریں گے کہ اے جانے والے! اگر اس دنیا میں تیری روح تیرے نیک عزائم کی تکمیل سے تسکین نہیں پا سکی تو ہم ان کی تعمیل کر کے اس دنیا میں تسکین کا سامان مہیا کریں گے۔آنے والے کے لئے جو ریزولیوشنز ہوں ان میں اس عہد کو تازہ کیا جائے کہ ہم اپنے دلوں سے معصیت اور گناہوں کے چراغ بجھا دیں گے اور تقویٰ کے چراغ روشن کریں گے اور اے آنے والے! ہم تجھ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم قیام شریعت کی کوششوں میں جو اللہ کے فضل