حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 487
432 تعالیٰ نے قریباً ساڑھے سات بجے شام دعا کروائی جس میں چار دیواری کے اندر اور باہر کھڑے ہوئے تقریباً ایک لاکھ احباب نے شرکت کی، حضور دعا کروانے کے لئے اس قطار میں موجود قبروں کی شرقی سمت کھڑے ہو گئے اور فرمایا اس کا مقصد یہ ہے کہ دعا میں حضرت مصلح موعود حضرت اماں جان اور سیدہ منصورہ بیگم کو بھی شامل کیا جائے۔روز ا ا جون ۱۹۸۲ء کو خطبہ جمعہ کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ اگلے تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔" حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کا جب عقد ثانی ہوا تو حضور نے مجھے فرمایا۔میرے دل کی عجیب کیفیت ہے۔میرے دل میں دو دھارے ایک ساتھ بہہ رہے ہیں ایک طرف تسکین اور سکینت کا دھارا ہے۔دوسری طرف گہرے غم کا ایک دھارا ہے۔یہ دونوں دھارے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کا بیان کرنا مشکل ہے۔یہ دونوں دھارے کامل صلح کے ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں۔یہی کیفیت آج میری ہے ایک طرف غم کا دھارا ہے اور دوسری طرف سکینت کا عالم ہے۔حضور نے بھرائی آواز میں فرمایا۔میں تو خلافت کا ایک ادنی غلام تھا۔آج اس سٹیج پر قدم رکھتے ہوئے مجھے خوف پیدا ہوا اور میں اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتا ہوا یہاں پہنچا ہوں۔۔۔حضور کی یاد دل سے محو ہونے والی نہیں۔ان کی زندہ جاوید شخصیت کے تذکرے ہوتے رہیں گے۔حضور نے اپنی وفات سے ایک دو روز قبل آپا طاہرہ سے فرمایا، گزشتہ چار روز میں نے اپنے رب سے بہت باتیں کی ہیں میں نے اپنے رب سے عرض کیا اے اللہ ! اگر تو مجھے بلانے میں راضی ہے تو میں تیری رضا پر راضی ہوں، میرے دل میں کوئی تردد نہیں ہے لیکن اگر تیری رضا یہ اجازت دے کہ جو کام میں