حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 473
418 برداشت بھی کر رہے ہیں۔ان دنوں میں جب میں جیپ میں بیٹھ کے باہر نکلتا تھا اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے تو نہیں کہا جا سکتا تھا کہ واپسی کیسے ہو گی۔کبھی خیال بھی نہیں کیا۔زبان پہ بھی نہیں آیا اشارہ بھی نہیں کیا کہ ان حالات میں آپ باہر کیوں جاتے ہیں۔بلکہ ہماری باہر کو تھی تھی اس کو بھی سنبھالتی تھیں، بچوں کو بھی سنبھالتی تھیں۔میں چیدہ چیدہ باتیں اس وقت بتاؤں گا کیونکہ اس وقت وقت نہیں ہے۔پھر کبھی موقع ملا تو انشاء اللہ بتاؤں گا۔وہ کیا تھیں کیسی تھیں۔پھر وقت آگیا۔پارٹیشن ہو گئی۔۲۵۔اگست کو حضرت مصلح موعود نے حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا اور (حضرت اقدس۔۔۔۔۔) سے تعلق رکھنے والی دیگر مستورات اور بچوں کو بہت ساری مصلحتیں تھیں) پاکستان بھجوا دیا۔آپ وہاں ٹھہر گئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت مصلح موعود کے ساتھ حضرت آیا صدیقہ صاحبہ ٹھہریں گی۔بس ایک خاندان میں سے منصورہ بیگم نے اصرار کیا کہ میں تو نہیں جاؤں گی۔میں تو ٹھروں گی یہاں۔مجھے اگر صحیح یاد ہے تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے نہیں مانی بات۔پھر حضرت صاحب سے منوائی کہ نہیں، میں یہاں ٹھہروں گی۔اس وقت کے لوگ یہ سمجھے کہ شاید اپنے میاں کو ان حالات میں چھوڑ کے یہ نہیں جانا چاہتی لیکن ۳۱۔اگست کو جب حالات نے مجبور کیا اس بات پر حضرت مصلح موعود کو کہ وہ قادیان چھوڑ جائیں تو اپنے میاں کو چھوڑ کے خلیفہ وقت کے ساتھ پاکستان آگئیں۔پھر ۱۹۵۳ء کے حالات آئے۔ہم لاہور میں تھے۔جو ربوہ میں تھے ان کو نہیں پتہ کیا حالات تھے وہ۔جو لاہور میں تھے ان کو پتہ ہے کیونکہ یہ مقامی لوکل فتنہ و فساد تھا۔کالج میں میری ڈیوٹی۔ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں۔ایک دن درد صاحب آگئے۔مجھے کہنے لگے۔آپ نے نہیں جانا کالج۔میں نے کہا کیوں نہیں جانا کہ گولیاں چل رہی ہیں۔میں نے کہا آج ہی تو دن ہے جب میں نے ضرور جانا ہے۔کیونکہ میرے اوپر ذمہ داری ہے ان احمدی اور غیر احمدی بچوں کی حفاظت کی جو میرے کالج میں آج آئیں گے۔وہ وہاں آجائیں اور میں گھر بیٹھا رہوں یہ نہیں مجھ سے ہو گا۔اتنا اصرار تھا ان کا کہ اگر وہ یہ سمجھتے کہ وہ مجھ سے جسمانی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہیں تو انہوں نے مجھے