حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 366
351 حضرت مصلح موعود کا وصال اور آپ کی کیفیت بالاخر وہ گھڑی آن پہنچی جن سے دل گھبرا رہے تھے ، اور ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب کو حضرت مصلح موعود ہی اللہ کا وصال ہو گیا۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَلِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن : ۲۸٬۲۷) اس موقع پر آپ کی جو کیفیت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی ایک بہن صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ بیان کرتی ہیں۔" مجھے وہ وقت کبھی نہیں بھولتا جب میرے ابا جان (حضرت مصلح موعود) کی وفات کے بعد میں ان کے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے بھائی جان کھڑے تھے۔آپ کے چہرے پر بھی شدید دکھ کے آثار تھے۔آپ نے آگے بڑھ کر مجھے سینے سے لگالیا اور میرے سر پر پیار کر کے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صدمہ بہت بڑا ہے مگر اس وقت ساری جماعت کے لئے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر قسم کے انتشار سے بچائے اور ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے۔میرے آنسو رک گئے اور میں جماعت کے لئے دعا میں لگ گئی اور یوں مجھے پہلا سبق اپنے ذاتی غم سے زیادہ جماعت کے ایک ہاتھ پر اکٹھے ہونے اور خلافت کی اہمیت کا دیا۔۔۔۔۔ابا جان کی وفات کے بعد جب تک خلافت کا انتخاب نہیں ہو گیا میں بے چینی کے ساتھ پھرتی کبھی ایک کمرے میں جاتی کبھی دوسرے میں چین نہیں آ رہا تھا۔میرے ابا جان کو اوپر کے کمرے سے نیچے لے جایا جا چکا تھا۔ابا جان کا ایک کمرہ جو دفتر تھا وہ بند پڑا تھا گھبرا کر اوپر گئی که شاید تنہائی ملے ، اتنے میں بھائی جان کو دیکھا کہ اس کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں، آنکھیں صدمہ سے سرخ مگر قرآن شریف کی تلاوت کر رہے ہیں۔ه