حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 344 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 344

329 " تفسیر صغیر پہلی بار ۱۹۵۷ ء میں چھپی تھی۔اس وقت جلدی کی وجہ سے کچھ اغلاط رہ گئی تھیں جن کے متعلق بعض احباب نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا تو حضور نے ۱۹۶۵ء کے آغاز میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مولانا جلال الدین صاحب شمس اور خاکسار راقم الحروف پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تفسیر صغیر کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے تاکہ آئندہ طباعت میں کوئی غلطی نہ رہ جائے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مکرم مولانا شمس صاحب ساری تفسیر چیک کریں اور غلطیوں کی فہرست بنا کر مجھے دے دیں اور خاکسار صاحبزادہ صاحب موصوف کو شروع سے آخر تک لفظاً لفظاً تفسیر صغیر کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ پڑھ کر سنائے۔تعمیل ارشاد میں خاکسار نے حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو شروع سے لے کر سورۃ نور کے چودھویں رکوع تک لفظاً لفظاً ترجمہ اور تفسیری نوٹ سنائے جس کے لئے آپ کو بہت وقت دینا پڑا۔کبھی رات نو بجے کے بعد اور کبھی دن کو ڈیڑھ بجے دوپہر کے بعد آپ دوسرے کاموں سے تھکے ہوئے آتے لیکن نهایت بشاشت کے ساتھ تفسیر صغیر کا ترجمہ سنتے۔جب سورۃ نور کی آیت استخلاف کے اس ترجمہ پر پہنچے کہ اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا تو اس دن حضرت مصلح موعود کا وصال ย ہو گیا اور خدائی تقدیر کے مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف خلیفہ المسیح منتخب ہو گئے۔خلافت کی ذمہ داریاں جب آپ کے کندھوں پر پڑیں تو آپ کے لئے تفسیر صغیر کے کام کے لئے وقت نکالنا مشکل ہو گیا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ بقیہ کام خاکسار کو سر انجام دینا چاہئے اور جو امر قابل استفسار ہو وہ آپ سے پوچھ لیا جائے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل کی گئی اور یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ اب کوئی غلطی نہیں رہ گئی