حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 250
235 انتہائی وقار کے ساتھ کالج کے احاطہ یا عمارت میں قدم رنجہ فرماتے تو کوئی طالب علم کالج کے برآمدوں میں دکھائی نہ دیتا تھا۔سب طالب علم انتہائی تیزی کے ساتھ بھاگ کر کمروں میں گھس جاتے اور کالج میں کسی قسم کے شور کا تصور ہی محال ہوتا۔؟ اله آپ کے رعب کے بعض لطیفے بھی مشہور ہیں چنانچہ چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں:۔رؤف خان صاحب حضور کے ایک ڈرائیور ہوا کرتے تھے۔یوپی کے رہنے والے تھے بہت حاضر جواب، بات کرنی خوب آتی تھی۔ایک مرتبہ حضور نگھوں کے شکار کے لئے تشریف لے گئے۔یہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے زمانے کی بات ہے۔پارٹی پوزیشنیں سنبھال کر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ڈار پر کسی نے فائر کیا جس کی آواز ہوا کے رخ کے باعث حضور تک نہ پہنچ سکی جب ڈار حضور کے اوپر سے گزری تو بہت بلند ہو چکی تھی حضور نے بندوق اٹھائی نشانہ باندھا پھر رک گئے لیکن عین اسی وقت ایک زخمی شدہ مجھ حضور کے قریب آن گرا۔اس پر حضور نے پوچھا کہ رؤف خان یہ کیسے گرا رؤف خان نے فوراً جواب دیا ”حضور رعب سے" یہ تھا تو لطیفہ لیکن سچی بات یہی ہے کہ رعب اللہ تعالیٰ نے حضور کو اسی قسم کا دیا ہوا تھا۔۵الہ کسی سے مرعوب نہ ہونے والی شخصیت کالج کے پرنسپل ہونے کے زمانے میں ہی آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا رعب اور جلال بخشا ہوا تھا اور آپ کبھی کسی سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔کالج کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں:۔" مرعوب ہونا تو حضور جانتے ہی نہ تھے۔۔۔۔۱۹۴۸٬۶۱۹۴۷ء کی بات ہے والٹن لاہور میں یونیورسٹی آفیسرز ٹریننگ کور کا پاکستان بننے کے