حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 244
229 بجے کا وقت ہو گا کہ حضور کا فون آیا کہ تفصیل بتائی جائے۔مبشر تو کئی ہیں فرمایا مجھے نیند نہیں آرہی اور بے حد بے چینی ہے۔کیا یہ وہی مبشر تو نہیں ہے جو ہر وقت مسکراتا رہتا ہے۔افسوس کہ یہ وہی مبشر تھا جس کی وفات پر آپ اس طرح بے چین ہو گئے تھے " ۱۰۴ آپ کے ایک شاگرد سراج الحق صاحب قریشی لکھتے ہیں:۔" حضور کو اپنے شاگردوں سے انتہائی محبت تھی اور کالج کا ہر طالب اور ہر کھلاڑی حضور کی نہایت ہی عزت اور احترام کرتا تھا۔بہت سے ایسے غریب طلباء ہوتے تھے جن میں کالج کے واجبات ادا کرنے کی سکت نہیں ہوتی تھی مگر جب وہ حضور کے پاس جاتے تو حضور اکثر و بیشتر ان کے واجبات ہی معاف فرما دیتے۔کالج میں داخلہ کے وقت ہر طالب علم سے انٹرویو لیتے اور اس وقت حصول علم کے لئے خاص طور پر نصیحت فرماتے۔۱۰۵ خاکسار مولف جب کالج میں داخل ہوا تو فسٹ ائیر کو خوش آمدید کہنے کے لئے تقریر فرمائی اور محنت ، دعا کی تلقین اور حسد سے بچنے کی نصیحت فرمائی۔صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب لکھتے ہیں:۔ایک دفعہ ایک لڑکے کو بدنی سزا دی۔میں چھوٹا تھا مجھے وجہ تو یاد نہیں کہ کیوں مارا تھا لیکن اتنا یاد ہے کہ آپ نے اسے بدنی سزا دی۔پھر اس کے جانے کے بعد اداس ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد مجھے ساتھ لیا اور ہوسٹل میں اس لڑکے کے کمرے میں چلے گئے۔وہ کپڑا ڈالے لیٹا ہوا تھا۔آپ کو دیکھ کر وہ ایک دم کھڑا ہو گیا۔آپ نے اسے پیار سے گلے لگایا ، سمجھایا ، پھر اپنے ہمراہ ٹی آئی کالج کی تک شاپ پر لے گئے اسے دودھ پلوایا اور بڑی محبت کا اظہار فرماتے رہے۔آپ کا یہ انداز اور سختی میں محبت و شفقت کا پہلو ایک جیتی جاگتی تصویر کی طرح میرے ذہن