حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 209
194 بھی خاص توجہ دینی ہو گی۔۔۔۔انسانی کوششیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر بیچ ہیں۔اس لئے ہم حضور سے اور بزرگان سلسلہ سے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحیح طریق پر تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔(۲) تعلیم الاسلام کالج کے قیام کا بڑا مقصد احمدی طلبہ میں مذہبی روح کا پیدا کرنا اور اسلامی تعلیم کو پختگی کے ساتھ قائم کرنا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ دینیات کے نصاب کے علاوہ جو مجلس تعلیم ہمارے لئے مقرر کرے گی طلبہ میں دینی اور مذہبی کتب کے مطالعہ کا شوق پیدا کریں اور اس کی عادت ڈالیں۔(۳) دماغی نشوو نما کے لحاظ سے کالج میں داخل ہونے والے طلبہ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں انہیں انگلی پکڑ کے بھی چلایا نہیں جا سکتا کہ انہیں اپنے سہارے چلنا سیکھنا ہوتا ہے اور کلی طور پر بے نگرانی بھی نہیں چھوڑا جا سکتا کہ ہمیشہ کے لئے وہ اخلاقی ہلاکت کے گڑھے میں گر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ان کے لئے بہترین درمیانی راہ کا انتخاب جے صراط مستقیم کہا جا سکتا ہے اور نگرانی اور آزادی کے اس ملاپ کو پا لینا جو ان کی اخلاقی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بنا دینے والا ہو نا ممکن تو نہیں مگر بہت مشکل ضرور ہے اور ہم حضور ہی سے دعا اور رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔(۴) فٹ بال، ہاکی کرکٹ انگریزوں کی قومی کھیلیں ہیں اور چونکہ آج کل انگریز ہم پر حاکم ہیں اس لئے ہندوستان میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب تک تعلیمی اداروں میں ان کھیلوں کو رائج نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو قائم نہیں رکھا جا سکتا اس کے برعکس وہ تمام قومیں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی