حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 189 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 189

174 منصوبے بنائے گئے ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کا پیار آسمان سے آیا اور اس نے ہمیں اپنے احاطہ میں لے لیا اور ہمیں تکلیفوں اور دکھوں سے بچایا اور اسی لذت اور سرور کے سامان پیدا کئے کہ دنیا اس سے ناواقف ہی نہیں اس کی اہل بھی نہیں ہے۔قید کے دوران آپ کا مثالی کردار اهه ۱۹۵۳ء کے مارشل لاء کے دوران لاہور سے جن احمدی مجاہدین کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں مکرم محمد بشیر صاحب زیروی بھی تھے۔وہ لکھتے ہیں:۔”جب ہمیں میڈیکل ہوسٹل کے نیلا گنبد کے بڑے گیٹ پر کھلے کیمپ سے جیل بھیجنے کے لئے اکٹھا کیا گیا تو وہاں اس عاجز کی ملاقات میاں صاحب سے ہوئی۔۔۔وہاں سے ہمیں ایک ٹرک پر بٹھا کر جیل کی طرف لے گئے۔حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے ٹرک میں بیٹھتے ہی بلند آواز میں قرآنی دعا لا إِلَهَ إِلا اَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ کا ورد شروع کر دیا جس سے دلوں میں سکینت و اطمینان کی بہر دوڑنا شروع ہو گئی۔حضرت میاں شریف احمد صاحب ہم سب میں بڑے تھے اور صحت کے لحاظ سے بھی کمزور مگر حوصلہ کے اعتبار سے از حد مضبوط و مستحکم کہ جب ہمارے چہروں کو پریشان یا ہمیں اضطراب سے دعائیں کرتے دیکھتے تو فورا ہماری دلی گھبراہٹ کو بھانپ جاتے اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے فرماتے۔یہ بچے تو مجھے دل چھوڑتے معلوم ہوتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔چنانچہ حضرت میاں صاحب ہمیں اپنے مخصوص انداز میں ہر آنے والے وقت کے لئے تیار کرتے رہتے مجھے ان کی یہ ادا کبھی نہیں بھولے گی کہ جب ہم میں سے ایک نوجوان نے اپنے بیان میں کسی قدر جھوٹ ملایا تو حضرت میاں شریف احمد