حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 188 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 188

173 آپ فرماتے ہیں کہ دل میں یہ دعا کرنے کی دیر تھی کہ ہوا چلی اور اگرچہ کمرہ ہر طرف سے بند تھا لیکن اس کا اثر کمرے کے اندر بھی ہوا اور آپ کو نیند آگئی۔اس واقعہ کا ذکر آپ نے خود بھی بعض مواقع پر کیا۔چنانچہ مستورات سے خطاب کرتے ہوئے جلسہ سالانہ ۱۹۶۹ء پر فرمایا:۔” میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ جب ایک موقع پر ظالمانہ طور پر ہمیں بھی قید میں بھیج دیا گیا۔گرمیوں کے دن تھے اور مجھے پہلی رات اس تنگ کو ٹھڑی میں رکھا گیا جس میں ہوا کا کوئی گزر نہیں تھا اور اس قسم کی کو ٹھڑیوں میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں اگلے دن پھانسی پر لٹکایا جانا ہو۔زمین پر سوتا تھا۔اوڑھنے کے لئے ایک بوسیدہ کمبل تھا اور سرہانے رکھنے کے لئے اپنی اچکن تھی۔بڑی تکلیف تھی۔میں نے اس وقت دعا کی کہ اے میرے رب! میں ظلم کر کے، چوری کر کے کسی کی کوئی چیز مار کر یا غصب کر کے یا کوئی اور گناہ کر کے اس کو ٹھڑی میں نہیں پہنچا۔میں اس جگہ اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ جہاں تک میرا ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرے نام کو بلند کرنے والا تھا۔میں اس جماعت میں شامل تھا جو تو نے اس لئے قائم کی ہے کہ نبی اکرم میں یہ کی تعلق محبت دلوں میں پیدا کی جائے۔میرے رب! مجھے یہاں آنے سے کوئی تکلیف نہیں ، مجھے کوئی شکوہ نہیں، میں کوئی گلہ نہیں کرتا میں خوش ہوں کہ تو نے مجھے قربانی کا ایک موقع دیا ہے اور میری اس تکلیف کی میری اپنی نگاہ میں بھی کوئی حقیقت اور قدر نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں پی اس جگہ جہاں ہوا کا گزر نہیں سو نہیں سکوں گا۔میں یہ دعا کر رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھیں۔میں بلا مبالغہ آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے نزدیک ایک ائیر کنڈیشنر لگا ہوا ہے اور اس نے ایک نہایت ٹھنڈی ہوا نکل کر پڑنی شروع ہوئی اور میں سو گیا۔غرض ہر دکھ کے وقت ہر مصیبت کے وقت میں جب عظیم