حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 174 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 174

159 تکلفی سے باتیں کیا کرتے۔بڑی عاجزی سے بے تکلف وہیں گھاس پر لڑکوں کے ساتھ چوکڑی مار کر بیٹھ جاتے اور دوستانہ لہجے میں مسکراتے۔ہوئے باتیں کرتے رہتے جس سے سب متاثر ہو جاتے۔لڑائی جھگڑے منٹوں میں ختم کر دیتے۔مجھے یقین ہے کہ آج بھی اس دور کے لڑکے ابا کو اس طرح یاد کرتے ہوں گے۔۳۷ ریم آپ کی غیر معمولی مقبولیت کا یہ واقعہ چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں:۔” ۱۹۵۳ء کے ہنگاموں میں حضور کی رہائش رتن باغ میں تھی۔ان دنوں طلباء رضا کارانہ طور پر حضور کی کوٹھی پر پہرہ دیا کرتے تھے۔ان میں غیر از جماعت طلباء بھی احمدی طلباء کی طرح یہ ڈیوٹی خوشی سے ادا کرتے بلکہ غیر از جماعت کارکنان میں سے بھی پہرہ دیا کرتے۔ان میں سے امیر دین صاحب کا نام اب تک یاد ہے جو بابا شادی کارکن کالج کے چچا زاد بھائی تھے۔ایک عجیب قسم کی محبت اور باہمی اعتماد کی فضا تھی۔جب مصلح موعود پر ربوہ میں قاتلانہ حملہ ہوا تو خبر ملنے پر احمدی طلباء کے ساتھ ساتھ غیر احمدی طلباء پر بھی سخت کرب اور اندوہ کی حالت طاری ہوئی اور وہ بھی ہماری طرح روتے ہوئے رتن باغ پہنچے اور جب ۱۹۵۳ء کے ہنگاموں میں حضور جیل سے رہا ہوئے تو ہماری طرح غیر از جماعت طلباء بھی فرط مسرت سے بے تابانہ دوڑتے ہوئے رتن باغ پہنچ گئے تھے۔پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ ہال کا وہ واقعہ تو خاصا معروف ہے۔اندر اجلاس ہو رہا تھا۔باہر طلباء نعرے لگا رہے تھے۔یونیورسٹی کے اکابرین اور میٹنگ کے دیگر ارکان بار بار باہر آکر طلباء کو تسلی دیتے اور خاموش رہنے کی تلقین کرتے۔طلباء جواباً آوازے کستے اور واپس جانے کے لئے کہتے۔انجام کار حضور خود باہر تشریف لائے۔حضور نے طلباء کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ اگر آپ کو مجھ پر اعتماد ہے تو خاموشی سے انتظار کیجئے اور اگر اعتماد نہیں تو کم از کم میرے یہاں