حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 173
158 منعقد ہوئے تھے۔وہیں گراؤنڈ میں بہت سے طلباء بیٹھے ہوئے تھے۔حضور نے ایک اور کالج کے پرنسپل صاحب سے جنہوں نے مارشل کا بلا لگایا ہوا تھا اور جن کی ڈیوٹی میں یہ بات شامل تھی کہ طلباء اور تماشائیوں کو گراؤنڈ کے اندر نہ آنے دیں۔فرمایا کہ مہربانی فرما کر ان طلباء کو یہاں سے جانے کے لئے کہیں تاکہ پروگرام کے مطابق میں کھیل شروع کرا سکوں۔انہوں نے جواب دیا ”میاں صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں۔آپ کو علم ہے کہ یہ کس کالج کے طلباء ہیں۔میں نے انہیں کہہ کر اپنی بے عزتی کروانی ہے ؟" حضور نے فرمایا یہ بات ہے تو میں خود انہیں اٹھا دیتا ہوں اور یہ میری بے عزتی نہیں کریں گے اس پر حضور ان نوجوانوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے درمیان جاکر بیٹھ گئے۔پہلے ان سے چند باتیں کیں اور پھر فرمایا کہ جس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں یہاں مقابلے منعقد ہونے ہیں۔کیا یہ مناسب نہ ہو ہو گا کہ جگہ خالی کر دی جائے۔اس پر وہ طلباء چھلانگیں لگاتے ہوئے جنگلے کے عقب میں چلے گئے اور جگہ خالی کر دی۔آپ کی صاحبزادی امتہ الشکور بیگم صاحبہ لکھتی ہیں:۔”جب تعلیم الاسلام کالج لاہور میں تھا۔وہاں جب کالجوں کی کشتیوں کی دوڑ کے مقابلے شروع ہوئے تو ابا ہم بچوں کو بھی ساتھ لے گئے۔اس دن کا نظارہ آج تک آنکھوں میں بسا ہوا ہے۔جب ہم راوی کے کنارے پہنچے تو ساری فضا ان نعروں سے گونج اٹھی ”میاں صاحب زندہ باد تعلیم الاسلام کالج زندہ باد۔یہ نعرے صرف اپنے لڑکے ہی نہیں لگا تھے۔باقی کالجوں کے لڑکے بھی ان میں شامل تھے۔اس وقت رہے بچپن میں ہی میرے پر یہ بات گہرا اثر چھوڑ گئی۔سوائے چند دشمنی رکھنے والوں کے سب طالب علم خواہ وہ کسی کالج سے تعلق رکھتے ہوں ابا کی بے حد عزت اور پیار کرتے تھے۔ابا ان سے اور وہ ابا سے بڑی بے Yee