حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 159 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 159

144 طلباء کی استعدادوں کی نشوو نما کے لئے پرنسپل صاحب کے اقدامات آپ کو شروع سے ہی کھیلوں اور کھلاڑیوں سے محبت رہی ہے چنانچہ آپ نے تعلیم الاسلام کالج میں کھیلیوں کو خاص طور پر متعارف کروایا اور آپ کا کھیلوں اور کھلاڑیوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کنوشتل کھیلوں کے علاوہ کالج میں ہوا بازی کی کلاسیں شروع کروائیں اور چوہدری محمد علی صاحب اور سید فضل احمد صاحب کو سکندر آباد (حیدر آباد دکن) تربیت حاصل کرنے کے لئے بھیجوایا اور کالج میں تعلیمی مقصد کے لئے دو جہاز بھی خریدے۔ایک ابھی بند ڈبے میں ہی پڑا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم ہو گئی جہاں آپ طلباء کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور کالج کی کھیلوں کو اہمیت دیتے تھے وہاں آپ طلباء کی اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے بھی فکر مند رہتے تھے۔چنانچہ پروفیسر صوفی بشارت الرحمان صاحب جن کو سالہا سال تک کالج میں آپ کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع ملا لکھتے ہیں:۔۱۹۴۶ء کا ذکر ہے کہ تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کے دفتر میں ایک دن حضور نے خاکسار سے فرمایا کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تو ہر احمدی تہجد کا عادی ہو تا تھا مگر ہماری نئی نسل میں یہ مبارک عادت بہت کم نظر آتی ہے۔فرمایا کہ میں نے۔۔۔۔دفتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں خدام کے تہجد کے وقت جمع ہونے کا انتظام کیا ہے۔۔۔۔۔آپ بھی ضرور اس میں شامل ہوا کریں اور فضل عمر ہوسٹل کے طلبا کی مدد سے ارد گرد کے اہل محلہ کے جگانے کا انتظام بھی کریں۔۲۵ آپ کا طلباء اور استادوں کی تربیت کا جو پر حکمت طریق تھا اس کا ایک واقعہ پروفیسر صوفی بشارت الرحمان صاحب یوں بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۴۴ء میں کالج یونین کے افتتاح کے لئے آپ نے خطاب کے لئے حسن اور عشق" کا عنوان منتخب فرمایا اور اس