حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 155 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 155

140 ممبر یونیورسٹی اکیڈیمک کونسل آپ نے جس انداز سے کالج کے انتظام کو چلایا اس کے نتیجے میں بہت جلد تعلیم الاسلام کالج ملک کے اہم کالجوں کی صف میں آکھڑا ہوا۔آپ کی ذاتی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ آپ یونیورسٹی اکیڈیمک کو نسل کے ممبر منتخب ہو گئے اور یہ انتخاب متفقہ طور پر آپ کے حق میں تھا۔چنانچہ الفضل ۸ جنوری ۱۹۴۵ء میں جو رپورٹ شائع ہوئی وہ یہ ہے۔” پنجاب یونیورسٹی کے تمام انٹر میڈیٹ کالجوں کے پرنسپل صاحبان نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو متفقہ طور پر سال ۱۹۴۶٬۱۹۴۵ء کے لئے یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل کا ممبر منتخب کر لیا اور پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو ۶ جنوری ۱۹۴۵ ء کو یہ اطلاع بھی مل گئی۔" حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی دلکش شخصیت کا اعتراف یونیورسٹی کے پہلے ہی اجلاس میں ہو گیا تھا۔چوہدری محمد علی صاحب سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ ہیں:۔رفتم " حضرت استاذی المکرم قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم جن کو ارم حضور کے استاد ہونے کا شرف حاصل تھا اور اس پر ان کو بجا طور پر فخر بھی تھا اکثر اس واقعے کا ذکر فرمایا کرتے کہ جب حضور یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں پہلی مرتبہ شامل ہوئے ابھی نوجوانی کا عالم تھا۔یہ تقسیم ملک سے پہلے کی بات ہے۔علامہ تاجور نجیب آبادی جو دیال سنگھ کالج کے پروفیسر تھے محترم قاضی صاحب کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے وہ حضور کی جانب بار بار دیکھتے اور متوجہ ہوتے۔حضور کمرے کے دوسری طرف تشریف فرما تھے آخر علامہ صاحب نہ رہ سکے اور کہنے لگے قاضی صاحب ! میں عرصے سے سوچ رہا ہوں کہ یہ کون صاحب ہیں؟ قاضی صاحب نے فرمایا کہ یہ ہمارے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد