حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 149 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 149

134 پروفیسر صاحب نے پرنسپل (یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب) کے پاس میری شکایت کی۔حضور کو میرے جواب سے تسلی نہ ہوئی اور سزا سنائی کہ پانچ روپے جرمانہ یا پانچ چھڑیاں تمام کالج کے سامنے لگائی جائیں۔حضور تو چند ماہ کے اندر ہی میرے وحشی قلب کو تسخیر کر چکے تھے۔حضور کی موجودگی میں ایک عجیب سپردگی کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔میں نے دریافت کیا کہ ان میں سے پہلی سزا کون سی ہے جرمانہ یا چھڑیاں۔جو بھی پہلی سزا ہو وہی مجھے منظور ہے۔ذرا سوچ کر فرمایا۔جرمانہ اصل سزا ہے اگر نہ دینا چاہو تو چھڑیاں کھانا ہوں گی۔جرمانہ فلاں دن تک جمع کروا دو۔اس زمانے میں ایک طالب علم کے لئے پانچ روپے خاصی بڑی رقم ہوتی تھی۔ہمارے ہوسٹل کا سارے مہینے کا خوراک کا خرچ فی کس پانچ روپے کے قریب آتا تھا جرمانہ داخل کرنے کی تاریخ سے ایک دن قبل مسجد مبارک میں نماز عصر کے بعد مجھے ایک طرف بلایا اور پوچھا تم نے جرمانہ ادا کر دیا ہے ؟؟ میں نے عرض کیا۔نہیں۔ابھی تک گھر سے منی آرڈر نہیں پہنچا ہے۔آنکھیں نیچی کر کے شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ روپے کا نوٹ مجھے دیا کہ جاؤ کل جرمانہ ضرور داخل کر دو ورنہ سارے کالج کے سامنے چھڑیاں کھانا پڑیں گی اور ذرا رعایت نہ ہو گی۔مت پوچھ کہ دل پر کیا گزری" جامعہ میں آپ اپریل ۱۹۴۴ء تک خدمات بجا لاتے رہے اور پھر حضرت مصلح موعود کے حکم سے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو پرنسپل کا چارج دے کر مئی ۱۹۴۴ء میں آپ تعلیم الاسلام کالج قادیان کے بانی پر نسپل کے طور پر متعین ہوئے۔چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ فرمایا۔۱۹۳۸ء کے آخر سے لے کر ۱۹۴۴ء تک جامعہ احمدیہ میں ایک استاد کی حیثیت سے پھر پرنسپل کی حیثیت سے میں نے کام کیا۔پھر