حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 143
128 طلباء پر محنت کا عالم طلباء پر جس قدر آپ محنت فرماتے اس کا اندازہ آپ کے ایک اور شاگرد رشید مولوی رشید احمد چغتائی صاحب کے اس بیان سے ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں:۔" حضور کا تعلق بحیثیت استاد اپنے شاگردوں سے دیگر اساتذہ سے ڑھ کر تھا چنانچہ آپ نہ صرف ہمیں جامعہ میں کلاس میں پڑھاتے بلکہ مزید برآں ہماری کلاس کو اپنی کو تھی "النصرة " واقعہ دارالانوار قادیان عصر کے بعد بلا کر پڑھایا کرتے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ چائے وغیرہ خورد و نوش کا بھی اہتمام کرتے۔مجھے یاد ہے بعض دفعہ محترمی صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب اپنی بچپن کی معصومیت میں ہی پدرانہ آداب کو قابل تحسین صورت میں ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے پاس آ بیٹھتے جس سے ہمیں آپ کی عمدہ تربیت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ودیعت شدہ عظیم صلاحیتوں کے آغاز کا مشاہدہ کرنے کا موقع میسر آ جاتا۔اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و عمر میں برکت بخشے آمین۔" که طلباء کی جسمانی نشو و نما کا خیال تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ بچوں کی جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے آپ پکنک وغیرہ بھی کرواتے اور وہاں ان کی ذہنی استعدادوں کو بھی ابھارنے کے لئے تقریری مقابلے کرواتے چنانچہ آپ کے شاگرد رشید مولوی حکیم خورشید احمد صاحب لکھتے ہیں:۔" آپ کو اپنے شاگردوں کی صحت کی بہت فکر رہتی۔ان کی صحت کے لئے جہاں اور تدابیر اختیار فرماتے وہاں اپنے شاگردوں کو پکنک کے لئے عموماً مثلہ نہر پر لے جاتے۔ایک دفعہ نہر پر پکنک کا پروگرام بنایا۔تمام اساتذہ اور طلبہ کو حکم دیا کہ سب مسلہ نہر پر پکنک کریں۔نہر پر