حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 119
104 مرحوم کی موجودگی ہی میں مرکز سے بذریعہ تار یہ اطلاع ملی کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلافت ثالثہ کے منصب جلیلہ پر فائز ہو گئے ہیں اور اس طرح ایک انگریز نو مسلم کی دور رس نگاہ نے جوانی ہی میں اس بے بہا گوہر کو شناخت کر لیا تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں عظیم کام لینے تھے اور حضور کی پارسائی ، خدا ترسی ، تقویٰ اللہ اور عشق محمد رسول اللہ علی الا اللہ پر ان کو گواہ ٹھہرانے کا شرف عطا فرمایا۔" ۶۵؎ اسی طرح آپ اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے خاندان کے دوسرے نوجوانوں صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب وغیرہ کے ہمراہ انگلستان کے علاقہ ڈیون شائر کی ایک انگریز خاتون کے فارم میں چھٹیاں گزار نے تشریف لے جایا کرتے تھے آپ کے زمانہ خلافت میں سابق امام مسجد لندن مکرم بشیر احمد رفیق صاحب کے استفسار پر اس معمر خاتون نے بتایا:۔"" وہ سامنے کمرہ ہے جس میں وہ ہمیشہ ٹھرا کرتے تھے اور صبح صبح جب میں ان کے کمرہ کے آگے سے گزرتی تو ایک عجیب بھنبھناہٹ کی مسحور کن آواز آیا کرتی جو کبھی کھڑے ہو کر میں چند منٹ سنا بھی کرتی۔ایک دن میں نے ناصر سے پوچھا کہ تم صبح سویرے کیا پڑھتے رہتے ہو جس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تو ناصر نے بتایا کہ وہ اپنی مقدس کتاب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔اسی خاتون نے یہ بھی فرمایا کہ ایک شام کھانے پر جب حضور رحمہ اللہ اور دوسرے صاحبزادگان موجود تھے یہ ذکر چل پڑا کہ مستقبل میں ان کے کیا ارادے ہیں۔ہر ایک نے بتایا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کس پیشے کو اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جب حضور رحمہ اللہ کی باری آئی تو آپ نے فرمایا کہ میں خدمت اسلام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور اپنی زندگی اس مقصد کے لئے وقف کرنے کا عزم کئے بیٹھا ہوں۔مجھے اور کوئی خواہش نہیں اور نہ ہی مجھے دنیا کی طرف کوئی