حصارِ

by Other Authors

Page 56 of 72

حصارِ — Page 56

منافقین کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ بل فریب سے بات کرتے ہیں اور کسی بزرگ ہستی کی گستاخی کے لئے زبان بے قابو ہورہی ہو تو لفظی چالاکی سے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالے کی تقدیر کے خلاف زبان درازی مقصود ہو تو فلک کو برا بھلا کہ کہ دل کی بھڑاس نکال لی جاتی ہے۔اسی وجہ سے آنحضور صل اللہ علیہ سلم نے افلاک باگردش ایام کو برا بھلا کہنے سے سختی سے منع فرمایا ہے کیونکه به در اصل تقدیر الہی کو برا کہنے کے مترادف ہے۔پس منافقین بھی خلیفہ وقت کو کوسنے کی جرات نہ پاکر کبھی اس کے بڑھاپے کو برا بھلا کہتے اور کبھی اس کی بیماری کو آٹر بناکر مومنوں کی جماعت میں معزل خلیفہ کے جراثیم پھیلانے کی کوشش کرتے اور اس حقیقت کو فراموش کر دیتے کہ مومنوں کی سوسائٹی میں خلیفہ کا مقام اس سے بہت بڑھ کر ہے ، جو ایک خاندان کے ماحول میں ماں باپ کو حاصل ہوتا ہے یعنی ان ماں باپ کو جن کے بارہ میں قرآن کریم ی تعلیم دیتا ہے کہ اگر ان میں سے دونوں یا ایک بہت بوڑھے ہو جائیں تب بھی ردامنِ ادب ہاتھ سے نہ جانے دینا اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کرنا ہے یہ تو اندرونی طور پر نفاق کے پردوں میں پنپ کر خلافت حقہ کو زائل کرنے کی سازشوں کا نمونہ تھا۔دشمن بیرونی طور پر اور کھل کر بھی خلافت کو زائل کرنے کی ہر دور میں کوشش کرتا رہا ہے۔پرانی تاریخ کو دھرانے کی یہاں گنجائش نہیں۔البتہ موجودہ دور می خلافت حقہ کو ختم کرنے کے لئے جو کوشش کی گئی وہ اندرونی وساوس کی قسم کی کوئی سازش نہ تھی بلکہ اس حصار امن و ایمان ویقین کو توڑنے کے لئے ایک حکومت کو استعمال کیا گیا جس کے پیچھے کئی دشمن اسلام طاقتیں کار فرما تھیں۔یہ ایک خوفناک سازش تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ خلافت کے وجود کو ختم کر کے پھر بزور طاقت جماعت احد یہ کوکچل دیا جائے اور یہ جماعت جو خلافت کے حصار میں غلبہ اسلام کے عظیم الشان کام کر رہی ہے اُن سے روک دیا جائے۔چنانچہ حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الرابع اس سازش کا تفصیلاً ذکر کر تے ہوئے فرماتے ہیں :۔ان کے ارادے ایسے ہیں کہ ان کو سوچ کر بھی ایک انسان جس کا دنیا میں