حصارِ — Page 21
ر تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔اتفاق بڑی نعمت ہے اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دید یا جو شیرازہ وحدت قائم رکھے ( بدر ۲۴ راگست ۶۱۹۱۱ ) جاتا ہے۔“ اور فرمایا : - ہم کے گولے اور زلزلہ سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ تم میں وحدت نہ ہوئی (بدرام (اکتوبر ۱۹۰۹ء) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ البَيِّنَتُ - (ال عمران آیت: ۱۰۶) کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو کھلے کھلے نشانات آپکنے کے بعد پراگندہ ہو گئے اورانہوں نے باہم اختلاف پیدا کر لیا۔پس پہلی قومیں اختلاف اور انتشار کا شکار ہو کر زوال پذیر ہوئیں لیکن امت مسلمہ کے لیے خدا نے خلافت کا نظام قائم کرکے یکجہتی اور اتحاد کا سامان کیا ہے اس حقیقت کو ہر مسلمان آج بھی محسوس کرتا ہے اور اسی غرض کے لیے خلافت کے احیاء کے لیے جتنی تحریکیں اٹھیں حتی کہ سعودی عرب میں بھی نظام خلافت کے قیام کی سکیمیں تیار ہو ہمیں۔چنانچہ فیصل آباد پاکستان سے شائع ہونے والے ہفت روزہ وفاق“ نے لکھا:۔سعودی عرب کے بعض حلقے جو دوبارہ خلافت کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنے اقدام کے جواز میں کہ رہے ہیں کہ خلافت کا منصب ہی واحد منصب ہے جو دنیا ئے اسلام کو متحد کرانے کا باعث ہو سکتا ہے اور زمانہ ماضی میں اسی منصب نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد کے رشتے میں پرو دیا تھا۔“ (وفاق ۲۱ اکتوبر ۱۹۹) مگر یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ خلافت جو اتحاد قائم کرتی ہے انسان کے ہاتھ سے قائم ہوتی ہے ہا نہیں بلکہ فرمایا : - تو انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَتَفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ اتَّفَ بَيْنَهُمْ (انفال: ۶۳) وہ اتحاد خدا کی قائم کردہ خلافت سے پیدا ہو سکتا ہے اور خلافت