ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 88 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 88

^^ کا کئی دفعہ ذکرہ آچکا ہے وہاں ایک قبیلہ قرطا کی طرف سے خطرناک خبریں ملیں۔بہت مجری محرم کی بات ہے آپ نے ایک دستہ بھیجا جو ڈیڑھ سو میل کی مسافت طے کر کے سنجد پہنچا وہاں زیادہ مقابلے کی صورت پیش نہ آئی۔دشمن بھاگ گئے۔مالِ غنیمت اور ایک قیدی ہاتھ لگا۔مدینہ پہنچ کہ جب یہ قیدی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے پہچان لیا یہ قیدی علاقہ یمامہ کا ایک یا انٹر میں اسلام کا شدید مخالف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارا دے کرنے والا تمامہ بن اثال تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ شمامہ کو صحن مسجد میں ایک سنون سے باندھ دیا جائے اور نیک سلوک کیا جائے۔آپؐ نے اپنے گھر سے ثمامہ کے لئے کھانا بھیجوایا۔بچہ۔ایسے شدید دشمن کے لئے بھی ہمارے آقا کے دل میں اتنی رحمت متھی کہ گھر سے کھانا بھیجوایا مگر صحن مسجد میں باندھنے کی حکمت سمجھ نہیں سکا۔ماں۔حکمت یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی طرز عبادت اور مجالس کا خود جائزہ ہے۔ہو سکتا ہے اس کا دل اسلام کی طرف مائل ہو جائے۔چنانچہ ہوا یہ کہ تین دن تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا کہ شمامہ کا حال پوچھتے رہے۔تیسرے دن آپؐ نے فرمایا " شمامہ کو کھول دو ، شمامہ آزادی ملتے ہی مسجد سے باہر چلا گیا اور تھوڑی دیر میں نہا دھو کر آیا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے مسلمان ہو گیا۔اور ایک بہت پیارا جملہ کہا : یا رسول اللہ ! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپ کی ذات سے