ہجرت سے وصال تک — Page 87
AL یہ غزده بنو قریظہ ذی قعده شنه مجری مطابق مارچ اپریل ۲ عمل میں آیا۔اور اس کے ساتھ ہی مدینہ میں غیر مسلموں کا زور ٹوٹ گیا اور مدینہ میں عملا مسلمان حکومت قائم ہوگئی۔حضرت سعد بن معاذ بنو قریظہ کے رئیس تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام اور بانی اسلام کے عشق میں اتنا آگے بڑھے کہ ان کا مقام انصار میں کم و بیش وہی تھا جو مہاجرین میں حضرت ابو بکرہ کا تھا۔غزوہ خندق میں ان کی کلائی پر زخم آگیا تھا جو ٹھیک ہونے میں نہ آنا دہ انصرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے عزیز تھے کہ تیمار داری کے خیال سے اپنے قریب مسجد کے صحن میں نتیجے میں رکھا۔مگر زخم ٹھیک نہ ہوا۔اسی تکلیف سے آپ وفات پاگئے جس کا آپ کو اور مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔آپ نے نخود نماز جنازہ پڑھائی۔دنیا نے کے لئے خود ساتھ تشریف لے گئے اور قبر کی تیاری تک وہیں ٹھہرے رہے اور آخر وہاں سے دعا کرنے کے بعد تشریف لائے ازرقانی جلد ۲ صدا (۱۴) آپ سے ایک قول بھی منسوب ہے۔آپ نے فرمایا " سعد کی موت پر خدائے رحمان کا عرش جھومنے لگ گیا۔(سنجاری ابواب مناقب انصار) یعنی عالم آخرت میں خدا کی رحمت نے خوشی کے ساتھ سعد کی روح کا استقبال کیا ہے۔بچہ۔انصار بعد میں آئے مگر آگے بڑھ گئے۔ماں۔آگے بڑھنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔اب میں آپ کو ایک انتہائی مخالف شخص کے قبول اسلام کا واقعہ سناتی ہوں بنجد کے علاقے کی مخالفت