ہجرت سے وصال تک — Page 71
61 اور اس دوران نمانہ پڑھنی چاہیے۔وہ نمازہ جو گرہن کے وقت پڑھی جائے اُسے صلوہ خوف کہتے ہیں۔بچہ۔خسوف چاند گرہن کو کہتے ہیں ؟ ماں۔جی بچے۔آپؐ نے سمجھایا کہ دنیا کی زندگی میں جو نور اور روشنی انسان کو پہنچتی ہے کسی بھی ذریعے سے پہنچے دراصل خدا تعالیٰ کی روشنی ہوتی ہے۔کسی وجہ سے روک پڑے تو خدا تعالیٰ سے اور قریب ہو جانا چاہیے۔آپ تو خدا تعالیٰ کے اس قدر قریب تھے کہ اس کی رضا کی خاطر اپنے دشمنوں سے بھی حسن سلوک فرماتے۔چنانچہ اُن دنوں مکہ میں قحط پڑا تو آپ نے انسانی ہمدردی سے مکہ کے فربار کے لئے کچھ چاندی بھیجوائی بشہ ہجری میں آپ کی شادی حضرت زینب بنت حجش سے ہوئی۔حضرت زینب آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں پہلے ان کی شادی آپ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ سے ہوئی جو نیچھ نہ سکی۔زید کے يا ހނ طلاق دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپؐ نے حضرت زینب - شادی کی (سورہ احزاب) اس شادی سے اللہ پاک نے عربوں کی ایک غلط رسم کو ختم کیا وہ یہ تھی کہ اگر کسی کے متعلق یہ کہ دیا جاتا کہ یہ میرا بیٹا ہے یعنی منہ بولا بیٹا، مبنی بنا لیا جاتا تو اس کو حقیقی بیٹا تصور کیا جاتا۔اسلام نے اُسے غلط قرار دیا۔یہ رسم ایک زمانے سے چلی آرہی تھی۔اُسے ختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لیں تاکہ آئندہ کے لئے یہ رسم ہمیشہ کے لئے