ہجرت سے وصال تک — Page 52
۵۲ خدا کی خوشنودی کے لئے کرنے کا عہد کرے تو خدا تعالیٰ یہ ہمت عطا فرماتا ہے۔یہی طاقت تو کمزور مسلمانوں کو اپنے سے چار گنا دشمن کے سامنے لے آئی تھی۔آپ کو یہ سُن کر اللہ تعالیٰ کی خاص مدد پر زیادہ یقین آئے گا کہ قریش کے قومی جھنڈے کو فخر سے اُٹھانے والے کو آدمی ایک کے بعد ایک قتل ہوتے گئے۔آخر طلحہ کے ایک بہادر حبشی غلام صواب نے جھنڈا ہاتھ میں لیا مگر ایک مسلمان نے ایک ہی وار میں اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جس سے جھنڈا زمین پر آ گیا۔صواب نے جھنڈے کو اپنی چھاتی سے لگا کہ بلند کرنے کی کوشش کی مگر پھر ایک مسلمان نے زور کا وار کیا جس سے صواب وہیں ڈھیر ہو گیا اُس کے بعد قریش میں سے کسی کو جھنڈا اٹھانے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نعرہ تکبیر لگا کر زور سے حملہ کر یں مسلمانوں نے اس زور کا حملہ کیا کہ دشمن کی رہی سہی طاقت کو روندتے ہوئے وہ شکر کے دوسرے پار عورتوں تک پہنچ گئے۔مکہ کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ذرا سی دیر میں سب بھاگ گئے۔میدان خالی ہوا مسلمان مال غنیمت جمع کرنے لگے۔بیچھ۔اور وہ مسلمان جو درہ پر پہرہ دے رہے تھے۔اُن کا کیا ہوا ؟ ماں۔جب انہوں نے دیکھا کہ دشمن بھاگ گیا ہے فتح ہو گئی ہے مسلمان مالِ رض غنیمت جمع کر رہے ہیں۔تو حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم نے حکم پر عمل کر لیا اب اطمینان ہوگیا ہے ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی لشکر کے ساتھ شامل ہو جائیں حضرت عبداللہ بن جبیر نے آپ کا حکم