ہجرت سے وصال تک — Page 51
۵۱ کر رکھ دیا۔پھر طلحہ کا بھائی عثمان للکارتا ہوا آیا۔حضرت حمزہ مقابلے پر نکلے اور جاتے ہی اسے مار گرایا۔اپنے سالاروں کی درگت دیکھ کر کفارے عام دھاوا بول دیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کرہ فرمایا " کوئی ہے جو اس کا حق ادا کرے۔حضرت ابو بکررض ، حضرت عمر رض ، حضرت زبیر اور حضرت علی کے علاوہ بھی بہت سے اصحاب نے ہاتھ آگے بڑھائے مگر آپ نے اپنی تلوار ابو دجانہ انصاری کو عطا فرمائی حضرت زبیر کے دل میں حسرت آئی اور سوچا میں دیکھوں گا ابو دجانہ اس تلوار کا حق کیسے ادا کرتے ہیں۔جنگ میں ابو دجانہ کے ساتھ ساتھ رہے اور دیکھا کہ ابودجانہ جدھر جاتے ہیں گویا موت بکھیرتے جاتے ہیں لبوں پر حمد کے ترانے ہیں۔ایک دفعہ کافروں کے لشکر میں آگے سے گھس کر تلوار کے جوہر دکھاتے ہوئے پیچھے پہنچ گئے جتنی کہ اُن کے سامنے ہند زوجہ ابوسفیان آگئی۔ابودجانہ رض نے تلوار اٹھائی مگر پھر نیچے کر لی حضرت زبیر نے پوچھا کہ آپ نے تلوار نیچے کیوں کر لی۔آپ نے بتایا کہ میرا دل اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ رسول اللہ کی تلوار ایک عورت پر چلاؤں ، تب حضرت زہیر کو سمجھ آئی کہ رسول اللہ کی تلوار کا جو حق ابو دجانہ نے ادا کیا ہے شاید میں نہ کر سکتا۔بچہ۔کتنا عجیب واقعہ ہے۔تلوار ہا تھ میں ہو دشمن سامنے ہو مارنے کی طاقت بھی ہو پھر بھی خود کو روک لینا بڑی بات ہے۔ماں۔جب انسان کے دل میں خدا کا پیار اور خدا کا خوف ہو اور وہ ہر حرکت