ہجرت سے وصال تک — Page 119
119 حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔کعبہ کے اندر سے بھی ثبت ہٹوائے اُس کی دیواروں پر جو تصویریں بنی تھیں مٹوا دیں پھر آپ حضرت بلال اور حضرت طلحہؓ کے ساتھ کعبہ کے اندر داخل ہوئے نفل ادا کئے پھر حرم کے صحن میں کھڑے ہو کہ فرمایا۔" ایک خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اُس نے اپنا وعدہ سچا گیا۔اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اُس ایک نے تمام جتھوں کو توڑ دیا۔" پھر آپ نے زمانہ جاہلیت کی بدرسموں کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا اور فرمایا کہ سب انسان برابر ہیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بہتر وہ ہے جو زیادہ منتقی یعنی خدا سے ڈرنے والا اور خدا سے محبت کرنے والا ہو گا۔بچہ۔مکہ کے مخالفین سخت خوفزدہ ہوں گے کہ اب زندگی بھر کی گستاخیوں کی سراطے گی۔ماں۔جی بچے وہ خوفزدہ تھے مگر یہ بھی جانتے تھے کہ آپ بے حد رحم کرنے والے ہیں۔قریش مکہ کے مظالم تو ہمیں یاد ہیں اب دیکھیں آپ کا پیارا اخلاق کیا تھا آپ کے فرمایا۔لَا تَتْرُيْبَ عَلَيْكُمْ اليَوم جاؤ تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگئی تم سب آزاد ہو۔اس عام معافی سے اہل مکہ کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ گروپ کے گروپ آ کمرہ اسلام قبول کرنے لگے۔آپ صفائی ایک بلند جگہ پر تشریف فرما تھے